کمرہ نمبر سترہ میں چار لڑکے رہتے تھے

اور ایک ہیٹر، جس پر پابندی تھی


وارڈن کے قدموں کی آہٹ پر

وہ الماری میں چھپ جاتا

ہم اسی پر میگی بناتے، اسی پر چائے

اسی کے گرد امتحان کی راتیں کاٹیں


ایک ڈاکٹر بن گیا

ایک کینیڈا چلا گیا

ایک کے ابو بیمار ہوئے تو وہ پڑھائی چھوڑ گیا

اور ایک میں ہوں، جو یہ لکھ رہا ہے


ہیٹر کا پتا نہیں اب کس کے پاس ہے

شاید وہی ہماری سب سے گرم یاد ہے


نظم: قصہ کہانی