ٹین کی چھت پر بارش یوں برستی تھی

جیسے سارا گاؤں دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو


ماں برتن رکھتی جاتی

جہاں جہاں ٹپکتا

ایک پتیلی، ایک کٹورا، ایک پرانا ڈبہ

اور ہر برتن کی اپنی آواز ہوتی

ٹن، ٹپ، ٹک


ہم بچے اسے موسیقی کہتے تھے

ماں اسے کچھ نہیں کہتی تھی


اب میرے گھر کی چھت پکی ہے

بارش آتی ہے اور گزر جاتی ہے

مجھے کھڑکی کھول کر دیکھنا پڑتا ہے

کہ آئی تھی یا نہیں


نظم: قصہ کہانی