رات گئے سلائی مشین کی آواز
ہمارے گھر کی لوری تھی
اماں پیڈل چلاتیں اور ہم سو جاتے
کسی کی شادی کا جوڑا، کسی کی عید کی قمیض
ہمارے سارے سال
دوسروں کے کپڑوں میں سلے ہوئے ہیں
میں نے پوچھا تھا
آپ اپنے لیے کب سیتی ہیں؟
بولیں، جس دن کسی کا آرڈر نہیں ہوگا
وہ دن کبھی نہیں آیا
اب میں انہیں بازار سے کپڑے لا کر دیتا ہوں
وہ قمیض الٹ کر سلائی دیکھتی ہیں
اور مسکرا کر کہتی ہیں
"کچی ہے"
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!