میں برج خلیفہ کی تصویر نہیں بھیجتا
وہ سب نے دیکھی ہوئی ہے
میں اس کمرے کی تصویر بھی نہیں بھیجتا
جہاں آٹھ بستر ہیں اور ایک کھڑکی
میں بھیجتا ہوں سمندر
شام کا، جب کام سے چھٹی ہو
اور میں دس منٹ ریت پر بیٹھ جاتا ہوں
بیٹی پوچھتی ہے
ابو، یہ پانی کہاں تک ہے؟
میں کہتا ہوں، گوادر تک
پھر وہاں سے بس ملتی ہے
پھر گھر
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!