بجلی گئی تو گھر چھت پر آ گیا

ایک چارپائی، چار تکیے، اور ابا کا ٹرانزسٹر


ستارے ہم نے اسی رات گنے تھے

جب پنکھا چپ تھا اور گلی بول رہی تھی


ساتھ والی چھت سے کسی نے پوچھا

"کتنے بجے آئے گی؟"

اور جواب کسی تیسری چھت سے آیا

"اللہ جانے"


پورا محلہ ایک ہی اندھیرے میں تھا

اور شاید اسی لیے ایک لگتا تھا


اب انورٹر ہے، یو پی ایس ہے، سولر ہے

بجلی جاتی ہے تو پتا بھی نہیں چلتا

اور چھتیں خالی رہتی ہیں


نظم: قصہ کہانی