ابا کی سائیکل اب بھی برآمدے میں کھڑی ہے

زنگ نے اس کی گھنٹی چپ کرا دی ہے


پہلی تاریخ کو اس کے کیریئر پر

آٹے کا تھیلا ہوتا تھا اور جلیبیوں کا لفافہ

اور ہم بہن بھائی

آٹے سے پہلے لفافے کو دیکھتے تھے


ابا پیدل چلاتے ہوئے گلی میں داخل ہوتے

کہ سائیکل کی آواز سے ہم جاگ نہ جائیں

اور ہم ہمیشہ جاگے ہوئے ہوتے


امی کہتی ہیں بیچ دو، جگہ گھیرتی ہے

میں ہر بار ہاں کہتا ہوں

اور ہر بار

اس کے ٹائروں میں ہوا بھر دیتا ہوں


نظم: قصہ کہانی