دسمبر کی صبح لاہور نہیں ہوتا

بس دھند ہوتی ہے اور اس میں کچھ آوازیں


ایک رکشے کی، ایک اذان کی

ایک چائے والے کی

جو کیتلی کو چمچ سے بجا کر گاہک بلاتا ہے


مال روڈ کے درخت اپنے ہی سائے میں چھپ جاتے ہیں

اور شہر پہلی بار ایسا لگتا ہے

جیسے کسی نے اسے ابھی ابھی لکھا ہو

اور ابھی کسی نے پڑھا نہ ہو


میں اسکوٹر آہستہ چلاتا ہوں

اس ڈر سے نہیں کہ کچھ ٹکرا جائے گا

اس ڈر سے کہ دھند چھٹ جائے گی

اور پھر وہی شہر نکل آئے گا

جس سے میں روز ملتا ہوں


نظم: قصہ کہانی