اماں کو لکھنا نہیں آتا
وہ وائس نوٹ بھیجتی ہیں
پہلے تین سیکنڈ خاموشی ہوتی ہے
جیسے کوئی دروازے پر رک کر دوپٹہ ٹھیک کرے
پھر "ہیلو" کہتی ہیں
حالانکہ میں ابھی سن نہیں رہا ہوتا
پھر وہی باتیں
روٹی وقت پر کھایا کرو
ٹھنڈا پانی مت پیا کرو
تمہارے ابا کا بلڈ پریشر ٹھیک ہے
اور آخر میں ایک لمبی سانس
جو کبھی کسی جملے میں نہیں بدلتی
میں نے ایک دن گنا
میرے فون میں ان کے چار سو بارہ وائس نوٹ ہیں
کسی میں بھی انہوں نے نہیں کہا کہ واپس آ جاؤ
ہر ایک میں کہا ہے
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!