میانی صاحب کے پچھلے حصے میں، جہاں بڑی قبریں ختم ہوتی ہیں اور مٹی کے ڈھیر شروع ہوتے ہیں، بابا فضل چالیس سال سے قبریں کھود رہا تھا۔
ان ڈھیروں پر کوئی کتبہ نہیں تھا۔ لاوارث، غریب، مسافر، جن کے پیچھے کوئی پتھر لگوانے والا نہیں تھا۔ مگر بابا فضل کے پاس ایک رجسٹر تھا۔

ہر قبر کا نمبر، اور ساتھ جو کچھ اسے معلوم ہو سکا۔ کبھی پورا نام، کبھی صرف "ریلوے اسٹیشن سے ملا، نیلی جیکٹ"، کبھی "عورت، عمر شاید ساٹھ، ہاتھ پر مہندی تھی، کسی کی شادی سے آئی تھی شاید۔"
جمعرات کی شام وہ ان قبروں پر دیے جلاتا، اور ہر ایک کے پاس رک کر رجسٹر سے پڑھتا، جیسے حاضری لے رہا ہو۔
ایک دن ایک نوجوان لڑکی آئی۔ اس نے کہا کہ اس کے دادا انیس سو اٹھانوے میں لاہور آئے تھے، علاج کے لیے، اور پھر واپس نہیں آئے۔ گھر والوں نے بہت ڈھونڈا، اسپتالوں میں، تھانوں میں۔ اب اس نے انٹرنیٹ پر کسی سے بابا فضل کے رجسٹر کا سنا تھا۔
بابا فضل نے عینک لگائی اور انیس سو اٹھانوے کے صفحے کھولے۔ انگلی سطروں پر چلتی رہی، پھر رک گئی۔
"قبر نمبر چار سو بیس۔ میو اسپتال سے آئے۔ نام نہیں بتا سکے۔ جیب میں ایک تسبیح تھی اور ایک پرچی، جس پر لکھا تھا: نصرت کے لیے چوڑیاں، نیلی، سائز ڈھائی۔"
لڑکی کا ہاتھ منہ پر چلا گیا۔ "نصرت میری دادی ہیں۔"
اس دن قبر نمبر چار سو بیس پر پہلی بار ایک کتبہ لگا۔ لڑکی کی دادی نے، جو اٹھہتر سال کی تھیں، نیلی چوڑیاں پہن کر فاتحہ پڑھی۔
بابا فضل نے رجسٹر میں اس سطر کے آگے ایک چھوٹا سا نشان لگایا، اور اگلی سطر پر انگلی رکھ دی۔ ابھی بہت سے لوگ باقی تھے جن کا کوئی انتظار کر رہا تھا۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!