مشن کے ضابطے میں صاف لکھا تھا: ہر خلا باز کا ذاتی سامان پانچ سو گرام سے زیادہ نہیں، اور کوئی کھلی غذائی چیز نہیں۔
ڈاکٹر زارا ملک نے اپنے پانچ سو گرام میں یہ رکھا تھا: اپنی نانی کی ایک تصویر، ایک چھوٹا قرآن، اور ایک پلاسٹک کا ڈبہ جس پر لکھا تھا "دوائی، ذاتی"۔

ڈبے میں دوائی نہیں تھی۔ اس میں بیس گرام کالی پتی تھی اور چار الائچیاں، کراچی کی جوڑیا بازار سے لی ہوئی۔
چاند کے مدار میں چوتھے دن مشن کمانڈر، جو ایک خاموش سا جاپانی تھا، نے اسے کیبن میں کچھ کرتے دیکھا۔ پانی گرم کرنے والے آلے کے پاس، ایک چھوٹی سی تھیلی، اور ایک خوشبو جو اس جہاز میں کسی نے پہلے نہیں سونگھی تھی۔
"ڈاکٹر ملک، یہ کیا ہے؟"
زارا نے سوچا جھوٹ بولے۔ پھر سوچا، تین لاکھ کلومیٹر دور جھوٹ کا کیا فائدہ۔
"چائے ہے، کمانڈر۔ میری نانی کہتی تھیں کہ گھر وہ ہوتا ہے جہاں چائے بنے۔ میں یہاں گھر بنانا چاہتی تھی۔"
کمانڈر نے کچھ دیر اسے دیکھا۔ پھر کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں زمین آدھی روشن تھی، آدھی اندھیری، اور اس کے کسی کونے میں کراچی تھا اور کسی کونے میں اوساکا۔
"اس میں دودھ ڈالتے ہیں؟" اس نے پوچھا۔
"ہمارے ہاں تو ڈالتے ہیں۔ یہاں پاؤڈر ہے۔"
"دو کپ بنائیں،" اس نے کہا۔ "اور یہ رپورٹ میں نہیں جائے گا۔"
اس شام چاند کے مدار میں پہلی بار چائے پی گئی۔ کمانڈر نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ مشن کا سب سے مشکل لمحہ واپسی نہیں تھا۔ سب سے مشکل لمحہ وہ تھا جب پتی ختم ہوئی، اور ابھی گیارہ دن باقی تھے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!