فقیر محمد کا باپ بھی شکاری تھا اور دادا بھی۔ ہر سردی میں جب سائبیریا سے پرندے جھیل پر اترتے، فقیر محمد کی بندوق کی نالی صاف ہو جاتی۔
اس صبح اس نے جھیل کے کنارے سرکنڈوں میں ایک کونج پڑی دیکھی۔ گولی کسی اور کی تھی۔ پر ٹوٹا ہوا تھا، مگر آنکھیں کھلی تھیں، اور وہ اسے دیکھ رہی تھی۔

فقیر محمد نے بندوق نیچے رکھی۔ اسے خود سمجھ نہیں آیا کہ کیوں۔ اس نے کونج کو چادر میں لپیٹا اور گھر لے آیا۔
بیوی نے کہا، "اب پرندے پالو گے؟ کھاؤ گے کیا؟"
بیٹے نے کہا، "ابو، اس کا نام رکھیں؟"
کونج کا نام مہمان رکھا گیا۔ گاؤں کے ڈنگر ڈاکٹر نے پر پر پٹی باندھی۔ بیٹا روز اسے ہاتھ سے دانہ کھلاتا۔ مہمان صحن میں ٹہلتی، مرغیوں سے لڑتی، اور شام کو آسمان کی طرف منہ کر کے ایک لمبی آواز نکالتی جو سارے گاؤں میں سنائی دیتی۔
فقیر محمد اس سردی شکار پر نہیں گیا۔ لوگوں نے پوچھا تو کہا، "گھر میں مہمان ہے۔"
مارچ کے آخر میں جھیل خالی ہونے لگی۔ کونجوں کی قطاریں شمال کی طرف جانے لگیں۔ ایک شام ایک ڈار گاؤں کے اوپر سے گزری، اور مہمان نے صحن سے اسے آواز دی۔ ڈار سے جواب آیا۔
مہمان نے دو بار پر پھڑپھڑائے، تیسری بار اڑ گئی۔ پہلے لڑکھڑاتی، پھر سیدھی۔
بیٹا رونے لگا۔ فقیر محمد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اگلی سردیوں میں اس نے اپنی بندوق بیچ دی اور جھیل پر محکمہ جنگلی حیات کا چوکیدار لگ گیا۔ وہ کہتا ہے کہ ہر نومبر ایک کونج ڈار سے الگ ہو کر اس کی جھونپڑی کے اوپر ایک چکر لگاتی ہے۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ سب کونجیں ایک جیسی لگتی ہیں۔ فقیر محمد کہتا ہے، مہمان کی آواز الگ ہے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!