اس بسنت پر بلال کی پیلی پتنگ تیسرے پیچ میں کٹ گئی، اور ہوا اسے سیدھا ساتھ والوں کی چھت پر لے گئی۔
ساتھ والوں کی چھت پر ثمینہ کپڑے اتار رہی تھی۔ اس نے پتنگ اٹھائی، اور اس کی نظر کانپ پر پڑی۔ وہاں پنسل سے کچھ لکھا تھا، بہت باریک:

"اگر یہ آپ تک پہنچے تو بتا دیں کہ آپ بھی میٹرک کا نتیجہ دیکھ کر روئی تھیں یا صرف میں۔"
ثمینہ ہنس پڑی۔ دونوں گھروں کے بیچ ایک گلی تھی، اور دس سال کی خاموشی۔ ان کے ابا ایک پلاٹ پر لڑ پڑے تھے، اور اس کے بعد سے دونوں گھروں کی عورتیں بھی ایک دوسرے کو سلام نہیں کرتی تھیں۔
اگلے دن ثمینہ نے اپنی پرانی پتنگ نکالی، جو تین سال سے الماری کے اوپر پڑی تھی۔ اس پر لکھا: "میں روئی تھی۔ پھر سپلی کا فارم بھرا۔ آپ بھی بھریں۔" اور اسے بلال کی چھت کی طرف اڑا کر ڈور چھوڑ دی۔
یہ سلسلہ پورا موسم چلا۔ پتنگیں آتی جاتی رہیں۔ کبھی ریاضی کا سوال، کبھی کسی گانے کے بول، کبھی صرف "آج آسمان اچھا ہے۔"
پھر بسنت پر پابندی لگ گئی، اور پتنگیں بند ہو گئیں۔ دونوں نے اگلے کئی سال ایک دوسرے کو بس چھت سے دیکھا۔ گلی وہیں تھی، خاموشی بھی۔
بارہ سال بعد، دونوں کے ابا کے انتقال کے بعد، بلال کی امی ایک دن ثمینہ کے گھر گئیں۔ ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا اور ایک پرانی پیلی پتنگ، تہہ کی ہوئی۔
"بلال کی الماری صاف کر رہی تھی،" انہوں نے ثمینہ کی امی سے کہا۔ "تیس پتنگیں نکلیں، سب پر آپ کی بیٹی کی لکھائی۔ میرا خیال ہے، بہن، ہمیں پلاٹ کی بات اب چھوڑ دینی چاہیے۔"
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!