ہر سال بیساکھی کے میلے میں چاچا کرم دین کا مائیک والا کھوکھا جھولوں کے ساتھ لگتا تھا۔ گمشدہ بچے ان کے پاس لائے جاتے، وہ انہیں بتاشے دیتے، اور اعلان کرتے:
"ایک بچہ، نام احمد، عمر پانچ سال، نیلی قمیض، اپنی امی کو ڈھونڈ رہا ہے۔ امی جی، کرم دین کے کھوکھے پر تشریف لائیں۔"

دس منٹ میں کوئی ماں روتی دوڑتی آتی، بچے کو سینے سے لگاتی، اور چاچا کو دعائیں دیتی جاتی۔ چاچا کہتے تھے کہ چالیس سال میں ایک بھی بچہ ایسا نہیں جو ان کے کھوکھے سے گھر نہ گیا ہو۔
ایک کو چھوڑ کر۔
میلے کی آخری رات، جب سب اعلان ہو چکتے اور جھولے بند ہونے لگتے، چاچا مائیک اٹھاتے اور ایک آخری اعلان کرتے:
"ایک بچہ، نام شکیل، عمر چھ سال، سر پر سفید ٹوپی۔ اگر کسی کو ملے، تو کرم دین کے کھوکھے پر لے آئے۔"
میلے والے جانتے تھے۔ شکیل انیس سو بیاسی کے میلے میں کھو گیا تھا، اور چاچا کا بیٹا تھا۔ اسی سال سے انہوں نے یہ کھوکھا لگانا شروع کیا تھا۔
پچھلے سال بھی انہوں نے وہی اعلان کیا۔ اعلان ختم ہوا تو ایک ادھیڑ عمر آدمی کھوکھے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے ساتھ دو بچے تھے۔
"چاچا جی،" اس نے کہا، "میں شکیل نہیں ہوں۔ میں انیس سو نواسی میں یہاں کھویا تھا، اور آپ نے مجھے امی سے ملایا تھا۔ ہر سال آتا ہوں، آپ کا یہ اعلان سنتا ہوں، اور چلا جاتا ہوں۔"
اس نے اپنے بچوں کو آگے کیا۔
"آج سوچا کہ آپ کو بتا دوں۔ آپ کے بہت سے بیٹے ہیں، چاچا۔ ہم سب آپ کے کھوکھے سے گھر گئے ہیں۔"
چاچا کرم دین نے مائیک بند کر دیا۔ اس رات پہلی بار انہوں نے اعلان ادھورا چھوڑا۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!