مری روڈ کے بس اسٹاپ پر اس شام اتنی بارش تھی کہ کتابوں والا بستہ بھی رو رہا تھا۔ عمر انٹر میں تھا، اور ٹیوشن سے واپس آ رہا تھا۔

ایک صاحب نے، جن کا چہرہ اسے بعد میں کبھی یاد نہیں آیا، اپنی کالی چھتری اس کی طرف بڑھا دی۔

ادھار کی چھتری

"لے لو۔ مجھے گاڑی لینے آ رہی ہے۔"

"واپس کیسے کروں گا؟"

"جلدی نہیں ہے۔ کسی دن کسی اور کو دے دینا۔"

چھتری کے لکڑی کے دستے پر پیتل کا ایک چھوٹا سا ٹیگ لگا تھا: "ایس اے، 1979۔"

عمر نے چھتری پندرہ سال سنبھال کر رکھی۔ یونیورسٹی گئی، پہلی نوکری پر گئی، شادی کے بعد نئے گھر گئی۔ ہر بار وہ سوچتا کہ اب کسی کو دے دے گا، اور ہر بار اسے لگتا کہ وہ ٹھیک آدمی ابھی نہیں ملا۔

پھر ایک شام وہ اپنے دفتر کے باہر کھڑا تھا اور بارش شروع ہو گئی۔ ساتھ ایک بزرگ کھڑے تھے، بھیگتے ہوئے، اور ٹیکسی کا انتظار کر رہے تھے۔

عمر نے چھتری کھولی اور ان کے سر پر کر دی۔

انہوں نے اوپر دیکھا، پھر دستے کو دیکھا۔ پیتل کا ٹیگ۔ ان کی انگلیاں اس پر رک گئیں۔

"سید عبدالستار،" انہوں نے آہستہ سے کہا۔ "انیس سو اناسی۔ یہ میری بیوی نے میری پہلی تنخواہ پر دلائی تھی۔"

عمر کو یقین نہیں آیا۔ "آپ نے... مری روڈ پر، ایک لڑکے کو..."

"مجھے یاد نہیں،" بزرگ مسکرائے۔ "میں نے اسے کئی بار کسی نہ کسی کو دیا تھا۔ ہر بار وہ کسی طرح واپس آ جاتی تھی۔ یہ پہلی بار ہے کہ اتنی دیر لگائی۔"

ٹیکسی آئی۔ بزرگ نے چھتری بند کر کے عمر کو واپس دے دی۔

"ابھی تمہارے پاس رہنے دو،" انہوں نے کہا۔ "اس کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔"