یونس بائیس سال سے ایمبولینس چلا رہا تھا اور اس نے ایک اصول بنا رکھا تھا: راستے میں مریض سے بات نہیں کرنی۔ بات کرو تو وہ یاد رہ جاتا ہے۔
اس رات گلشن اقبال سے ایک بوڑھے کو اٹھایا، دل کا دورہ۔ ساتھ کوئی نہیں تھا۔ پڑوسی نے فون کیا تھا۔

شاہراہ فیصل پر بارش تیز ہو گئی۔ پیچھے سے آواز آئی، "بیٹا، رکنا نہیں۔ بس سن لو۔"
یونس نے جواب نہیں دیا۔
"میری بیٹی لندن میں ہے۔ ہماری لڑائی ہوئی تھی، چھ سال پہلے۔ میں نے کہا تھا کہ اب کبھی فون نہ کرنا۔ اس نے نہیں کیا۔ میں نے بھی نہیں کیا۔"
یونس نے اسپیڈ بڑھا دی۔
"میری جیب میں اس کا نمبر ہے۔ اگر میں نہ پہنچوں، تو تم اسے فون کرنا۔ یہ مت کہنا کہ میں مر گیا۔ یہ کہنا کہ ابو نے کہا تھا، غلطی میری تھی۔"
"آپ پہنچیں گے، بابا جی۔ دس منٹ۔"
وہ پہنچ گئے۔ ایمرجنسی میں ڈاکٹر دوڑے، اسٹریچر اندر گیا، دروازے بند ہوئے۔ یونس باہر کھڑا رہا، حالانکہ اسے اگلی کال پر جانا تھا۔
صبح ہوئی تو ایک نرس باہر آئی۔ "بچ گئے ہیں۔ آئی سی یو میں ہیں۔ آپ رشتہ دار ہیں؟"
"نہیں۔"
یونس واپس ایمبولینس کے پچھلے دروازے پر بیٹھ گیا اور چائے والے سے ایک کپ لیا۔ پرچی اس کی جیب میں تھی۔ بابا جی نے اسٹریچر پر جاتے جاتے اس کے ہاتھ میں ٹھونس دی تھی۔
وعدہ تو یہ تھا کہ اگر وہ نہ پہنچیں تو فون کرنا ہے۔ وہ پہنچ گئے تھے۔
یونس نے کچھ دیر پرچی کو دیکھا۔ پھر لندن کا نمبر ملایا۔
"آپ مجھے نہیں جانتیں،" اس نے کہا۔ "آپ کے ابو ٹھیک ہیں۔ مگر انہوں نے آپ کو ایک بات کہنی ہے، اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ خود کہہ سکیں گے۔"
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!