ماسٹر صادق نے اڑتیس سال گورنمنٹ ہائی اسکول چک نمبر چھیالیس میں ریاضی پڑھائی۔ ریٹائرمنٹ کے دن ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ آخری پیریڈ نہ لیں، الوداعی تقریب ہے۔ ماسٹر صادق نے کہا کہ تقریب پیریڈ کے بعد بھی ہو سکتی ہے۔
دسویں جماعت میں داخل ہوئے تو لڑکے ہار لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے ہار میز پر رکھوائے اور حاضری لی۔ اڑتیس سال میں انہوں نے کبھی حاضری نہیں چھوڑی تھی۔

پھر بورڈ کی طرف مڑے، اور کچھ دیر کھڑے رہے۔
"آج کوئی سوال نہیں ہوگا،" انہوں نے کہا۔ "آج میں تمہیں یہ بتاؤں گا کہ میں نے کیا غلط کیا۔"
کلاس خاموش ہو گئی۔
"انیس سو نوے میں ایک لڑکا تھا، رفیق۔ اس نے ایک سوال کا ایسا حل نکالا جو کتاب میں نہیں تھا۔ میں نے غلط کہہ دیا، کیونکہ مجھے سمجھ نہیں آیا۔ وہ اس کے بعد کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا۔ آج سوچتا ہوں، وہ شاید ٹھیک تھا۔"
"دو ہزار تین میں ایک لڑکی تھی، جس کے ابا نے کہا کہ اسے آٹھویں کے بعد نہیں پڑھائیں گے۔ میں ان کے گھر جانا چاہتا تھا۔ نہیں گیا۔ سوچا، میرا کام نہیں۔"
وہ ایسی سات باتیں گنواتے رہے۔ پھر چاک رکھ دی۔
"تم میں سے کچھ استاد بنو گے۔ یاد رکھنا، استاد کا سب سے بڑا سبق وہ ہوتا ہے جو وہ اپنی غلطی پر دیتا ہے۔"
دروازے پر کچھ آوازیں ہوئیں۔ وہاں چند بڑے لوگ کھڑے تھے، پرانے شاگرد جو تقریب کے لیے آئے تھے۔ ان میں سے ایک آگے بڑھا، چشمہ لگائے، کچھ سفید بالوں والا۔
"ماسٹر جی، میں رفیق ہوں۔ میں انجینئر بن گیا۔" وہ مسکرایا۔ "اور آپ ٹھیک تھے۔ میرا حل غلط تھا۔"
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!