موضع کوٹ سلطان میں جس رات رانی چوری ہوئی، پورے گاؤں نے ماتم کیا۔ رانی ماسی نوراں کی بھینس تھی، کالی، بڑے سینگوں والی، اور اپنی مرضی کی مالک۔

پولیس آئی، کھرا ڈھونڈا گیا، نمبردار نے قسمیں اٹھوائیں۔ کچھ ہاتھ نہیں آیا۔

بھینس کی واپسی

تیسرے دن صبح ماسی نوراں نے دروازہ کھولا تو رانی سامنے کھڑی جگالی کر رہی تھی۔ اس کے سینگ پر ایک پرچی بندھی تھی۔

پرچی نمبردار کے بیٹے نے پڑھ کر سنائی، کیونکہ ماسی کو پڑھنا نہیں آتا تھا:

"ماسی جی، معافی۔ آپ کی بھینس واپس ہے۔ تین دن میں اس نے ایک قطرہ دودھ نہیں دیا۔ ہمارا چارہ نہیں کھایا، ہمارا پانی نہیں پیا۔ رات کو ایسی آواز نکالتی ہے کہ محلے والے پوچھنے لگے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک بار میرے بھائی کو دیوار سے لگا دیا۔ ہم ایسی بھینس نہیں رکھ سکتے۔ آپ کیسے رکھتی ہیں، اللہ جانے۔ ایک چور۔"

نیچے ایک سطر اور تھی: "پچھلی گلی والا چارہ اچھا ہے، اسے وہی دیا کریں، ہم نے آزمایا تھا۔"

گاؤں والے ہنستے ہنستے دوہرے ہو گئے۔ ماسی نوراں نے رانی کا منہ دونوں ہاتھوں میں لیا۔

"میری شیرنی،" انہوں نے کہا۔ "اسی لیے تو تجھے رانی کہتی ہوں۔"

اس شام رانی نے معمول سے دو کلو زیادہ دودھ دیا۔ ماسی نے اس میں سے ایک لوٹا مسجد کے دروازے پر رکھ دیا، اور ساتھ کہلوا دیا کہ جس نے پرچی لکھی ہے، اسے بھی ملے۔ چور، آخر، ایماندار تو نکلا۔