شریف صاحب کا اصول تھا کہ ہفتے میں دو شادیاں۔ جمعرات اور اتوار۔ وہ اپنا اکلوتا سوٹ استری کرتے، جیب میں ایک خالی لفافہ رکھتے کہ کوئی پوچھے تو دکھا سکیں، اور کسی بھی شادی ہال میں داخل ہو جاتے جس کے باہر زیادہ گاڑیاں ہوں۔

بیوی کے انتقال کے بعد گھر میں کھانا بنانے والا کوئی نہیں تھا، اور پنشن دوائیوں میں ختم ہو جاتی تھی۔ شادی کا کھانا ہفتے بھر کا سہارا تھا۔

بن بلایا مہمان

بارہ سال میں وہ کبھی نہیں پکڑے گئے۔ ان کا طریقہ سادہ تھا۔ دلہن والوں سے کہو کہ دولہا والوں کی طرف سے ہوں، اور دولہا والوں سے الٹ۔

پھر گارڈن ٹاؤن کی ایک شادی میں ایک نوجوان نے ان کا بازو پکڑ لیا۔

"انکل، آپ کس کی طرف سے ہیں؟"

"دولہا کی طرف سے، بیٹا۔"

"میں دولہا ہوں۔"

شریف صاحب کی پلیٹ ہاتھ میں رہ گئی۔ آس پاس لوگ دیکھنے لگے۔ ان کا چہرہ زرد ہو گیا، اور انہوں نے پلیٹ آہستہ سے میز پر رکھ دی۔

پھر دولہا کے والد آئے۔ انہوں نے شریف صاحب کو غور سے دیکھا۔

"آپ... گورنمنٹ ہائی اسکول اچھرہ میں انگریزی پڑھاتے تھے؟"

شریف صاحب نے سر ہلایا۔

"1985 میں آپ نے میری فیس اپنی جیب سے دی تھی، جب ابا بیمار تھے۔ آپ کو یاد نہیں ہوگا۔"

شریف صاحب کو یاد نہیں تھا۔ انہوں نے ایسا بہت لوگوں کے لیے کیا تھا۔

اس رات وہ اسٹیج پر دولہا کے ساتھ بیٹھے، اور ان کی تصویر شادی کی البم میں لگی۔ اور اگلے مہینے سے ہر جمعرات اور اتوار ایک لڑکا ان کے دروازے پر ٹفن رکھ کر جانے لگا۔ ساتھ ایک پرچی ہوتی: "شادی کا کھانا۔ آپ کی طرف سے۔"