چوہدری اللہ دتہ نے پچاس سال اپنے کھیتوں پر ہاتھ والی ٹنکی سے اسپرے کیا تھا، اور ان کی کمر اس کی گواہ تھی۔ پوتا فیصل زرعی یونیورسٹی سے پڑھ کر آیا تو ساتھ ایک ڈرون لایا۔

"دادا، یہ پچیس ایکڑ آدھے گھنٹے میں کر دے گا۔ دوائی بھی کم لگے گی۔"

ڈرون اور بزرگ کسان

دادا نے ڈرون کو ایسے دیکھا جیسے کوئی نیا داماد دیکھتا ہے۔

"ٹھیک ہے،" انہوں نے کہا۔ "مگر پہلے ایک دن تم میرے ساتھ کھیت پیدل گھومو گے۔"

فیصل نے سوچا یہ آدھے گھنٹے کا کام ہے۔ دادا نے اسے صبح فجر سے عصر تک گھمایا۔

"یہ کونا دیکھو، یہاں پانی کھڑا رہتا ہے، یہاں دوائی کم ڈالنی ہے ورنہ پودے جل جاتے ہیں۔"

"اس درخت کے نیچے تین سال سے سنڈی آتی ہے، پہلے یہاں دیکھنا۔"

"یہ وٹ میرے بھائی کے ساتھ جھگڑے کی ہے۔ اس طرف دوائی گئی تو پھر جھگڑا ہوگا۔"

"اور یہ جگہ" دادا ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر رکے جہاں کچھ بوٹیاں اگی تھیں، "یہاں کبھی کچھ نہیں ڈالنا۔ یہاں تیتر انڈے دیتے ہیں۔ تمہاری دادی کو ان کی آواز پسند تھی۔"

شام کو فیصل نے اپنے ٹیبلٹ پر نقشہ کھولا اور ایک ایک جگہ پر نشان لگائے۔ لال، پیلے، اور ایک چھوٹا سا سبز دائرہ، جس کے اندر اس نے لکھا: "نو اسپرے زون۔ دادی کے تیتر۔"

اگلی صبح ڈرون اڑا۔ دادا چارپائی پر بیٹھے دیکھتے رہے۔ ڈرون سبز دائرے کے اوپر پہنچا، رکا، اور مڑ گیا۔

دادا نے حقے کا کش لیا اور پہلی بار مانا، "ہوں۔ پڑھائی کام آئی ہے۔"