اتوار کو انارکلی کے فٹ پاتھ پر پرانی کتابیں بکتی ہیں، اور ماہا وہاں صرف اس لیے جاتی تھی کہ کتابوں کی خوشبو سونگھ سکے۔ اس دن اس نے پچاس روپے میں غالب کے خطوط کی ایک پرانی کاپی اٹھا لی، جس کی جلد اکھڑی ہوئی تھی۔

گھر جا کر کھولی تو حاشیے بھرے ہوئے تھے۔ نیلی سیاہی، صاف، چھوٹی لکھائی۔

حاشیے کی لکھائی

پہلے صفحے پر لکھا تھا: "1974۔ ابا نے یہ کتاب دی۔ کہا، خط لکھنا سیکھو۔"

چالیسویں صفحے پر: "آج شہناز کو پہلا خط لکھا۔ غالب کا ایک جملہ چرا لیا۔ اللہ معاف کرے۔"

نوے صفحے پر: "شہناز کا جواب آیا۔ اس نے بھی غالب کا جملہ چرایا ہے۔ یہی کتاب اس کے پاس بھی ہے!"

ماہا رات بھر پڑھتی رہی۔ شادی، ایک بیٹا، کراچی کا تبادلہ، شہناز کی بیماری۔ آخری حاشیہ، کتاب کے آخری صفحے پر، کانپتے ہاتھ کا تھا: "2011۔ شہناز چلی گئی۔ اب خط کس کو لکھوں؟ غالب، تم ہی بتاؤ۔"

اندر کے سرورق پر ایک نام اور پتا تھا: عبدالحمید، سمن آباد۔

ماہا تین دن سوچتی رہی۔ پھر سمن آباد گئی۔ مکان بدل چکا تھا، مگر ایک پرانے پڑوسی نے بتایا کہ حمید صاحب کا بیٹا انہیں اولڈ ہوم چھوڑ گیا ہے، اور ان کا سامان، کتابیں سمیت، کباڑیے کو بیچ دیا گیا تھا۔

اولڈ ہوم کے لان میں ایک بہت بوڑھے آدمی دھوپ میں بیٹھے تھے۔ ماہا نے کتاب ان کی گود میں رکھ دی۔ انہوں نے جلد پر ہاتھ پھیرا، پھر اسے کھولا، اور آخری صفحے تک گئے۔

ماہا نے اپنا قلم ان کی طرف بڑھایا۔

"خط مجھے لکھ دیجیے،" اس نے کہا۔ "میں جواب دوں گی۔ غالب سے چرا کر۔"