پروفیسر نعیم پچیس سال سے میٹرک کے امتحان میں نگران تھے اور ان کی شہرت یہ تھی کہ ان کے کمرے سے کوئی بوٹی بچ کر نہیں نکلتی۔
ریاضی کے پرچے کے دن انہوں نے تیسری قطار کے ایک لڑکے کو جیومیٹری بکس میں کچھ چھپاتے دیکھا۔ وہ آہستہ سے گئے، ڈبہ کھولا، اور پرکار کے نیچے سے ایک تہہ کی ہوئی پرچی نکالی۔

لڑکے کا رنگ اڑ گیا۔
پروفیسر نعیم نے پرچی کھولی۔ اس پر کوئی فارمولا نہیں تھا، کوئی سوال نہیں۔ ٹیڑھی میڑھی لکھائی میں چند سطریں تھیں:
"بیٹا، گھبرانا نہیں۔ جو آتا ہے پہلے وہ کرنا۔ پانی پیتے رہنا۔ میں نے آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی ہے۔ تمہارے ابا ہوتے تو خوش ہوتے۔ امی۔"
پروفیسر نعیم نے پرچی دوبارہ پڑھی۔ پھر لڑکے کی طرف دیکھا۔
"یہ کس نے لکھا؟"
"امی نے، سر۔ وہ زیادہ پڑھی ہوئی نہیں ہیں۔ میں نے کہا تھا نہ ڈالیں، پکڑی جائے گی۔"
کمرے میں سب لڑکے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ قاعدہ صاف تھا۔ کوئی بھی کاغذ امتحانی ہال میں لانا منع تھا۔ ایسی پرچی پر رپورٹ بنتی تھی، پرچہ منسوخ ہوتا تھا۔
پروفیسر نعیم نے پرچی دوبارہ تہہ کی اور اپنی جیب میں رکھ لی۔
"قاعدے کے مطابق یہ ضبط ہے،" انہوں نے اونچی آواز میں کہا۔ پھر جھک کر آہستہ سے بولے، "پرچہ ختم ہو تو مجھ سے لے لینا۔ اور پانی پیتے رہو۔"
اس سال انہوں نے رپورٹ کے رجسٹر میں ایک بھی نام نہیں لکھا۔ ریٹائرمنٹ تک ان کی شہرت ویسی ہی رہی۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کی ڈائری میں ایک پرانی تہہ شدہ پرچی کیوں رکھی رہتی تھی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!