اسکول کی چھٹی کی گھنٹی بجتی تو رحیم بخش کا ٹھیلا گیٹ کے سامنے ہوتا۔ لال، ہرا، پیلا شربت، اور برف کو رندے پر گھسنے کی وہ آواز جو آدھے محلے کو پیاسا کر دیتی تھی۔ گولا دس روپے کا تھا۔

دوسری جماعت کی ایک لڑکی روز آتی، سب سے آخر میں، جب بھیڑ چھٹ جاتی۔ مٹھی کھولتی تو اس میں ایک بٹن ہوتا۔ کبھی سفید، کبھی سنہرا، کبھی کسی کوٹ کا بڑا کالا بٹن۔

بٹن والے گولے

پہلے دن رحیم بخش ہنس پڑا تھا۔ لڑکی نے بڑی سنجیدگی سے کہا تھا، "یہ سونے کا ہے۔"

اس نے بٹن لے لیا اور گولا دے دیا۔ لال والا، کیونکہ لڑکی نے کہا تھا کہ لال سب سے مہنگا ہوتا ہے۔

یہ تین سال چلا۔ رحیم بخش نے بٹن ایک شیشے کے مرتبان میں جمع کیے جو ٹھیلے کے نیچے رکھا رہتا تھا۔ دوسرے بچے مذاق اڑاتے، "چاچا، ہم بھی بٹن لائیں؟" وہ کہتا، "تم لوگوں کے پاس پیسے ہیں۔"

پھر لڑکی آنا بند ہو گئی۔ پتا چلا کہ اس کا ابو کسی اور شہر میں نوکری لگ گئی ہے۔

بائیس سال بعد ایک خاتون ٹھیلے پر رکیں۔ رحیم بخش کی کمر جھک گئی تھی، ٹھیلا وہی تھا، مرتبان بھی۔

"ایک لال گولا،" انہوں نے کہا، اور مٹھی کھولی۔ اس میں ایک بٹن تھا۔

رحیم بخش نے ان کا چہرہ دیکھا۔ پھر ٹھیلے کے نیچے سے مرتبان نکالا، جو اوپر تک بھرا تھا، اور ان کی طرف بڑھا دیا۔

"تمہاری امانت،" اس نے کہا۔ "اب تم بڑی ہو گئی ہو، اب پیسے دے کر کھایا کرو۔"

خاتون نے ہزار کا نوٹ رکھا اور بقایا لینے سے انکار کر دیا۔ رحیم بخش نے بھی انکار کر دیا۔ آخر یہ طے ہوا کہ بقایا کے گولے ان بچوں کو ملیں گے جن کے پاس آج پیسے نہیں۔