اندرون لاہور کی اس حویلی میں عبدالقادر نام کا ایک جن دو سو چودہ سال سے رہ رہا تھا، اور اسے کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوئی۔

انگریز آئے، چلے گئے۔ حویلی کے مالک بدلے، بٹوارہ ہوا، گراموفون آیا، ٹی وی آیا۔ عبدالقادر سب برداشت کرتا رہا۔ وہ دن بھر شہتیر میں سوتا اور رات کو صحن میں ٹہلتا۔

حویلی کا جن اور وائی فائی

پھر نئے کرایہ دار آئے، ایک نوجوان جوڑا جو گھر سے کام کرتا تھا، اور انہوں نے وائی فائی لگوایا۔

عبدالقادر کو پہلی رات ہی سر میں درد شروع ہو گیا۔ لہریں اس کے دھوئیں والے جسم میں سے گزرتیں تو ایسا لگتا جیسے کوئی کان میں لگاتار سیٹی بجا رہا ہو۔ اس نے روٹر کی تار نکالی۔ صبح لڑکے نے دوبارہ لگا دی۔ اس نے روٹر طاق سے گرا دیا۔ لڑکی نے کہا، "یہ گھر بہت پرانا ہے، چیزیں ہلتی ہیں۔"

ایک مہینے بعد عبدالقادر نے وہ کیا جو اس نے دو سو سال میں نہیں کیا تھا۔ وہ ظاہر ہو گیا۔

لڑکی کی چیخ نکلی، لڑکا لیپ ٹاپ لے کر کھڑا ہو گیا۔ عبدالقادر نے ہاتھ اٹھائے، "ڈریں نہیں، مجھے بس ایک بات کرنی ہے۔"

بات چیت دو گھنٹے چلی۔ آخر میں یہ طے ہوا کہ روٹر رات بارہ سے صبح چھ تک بند رہے گا، تاکہ عبدالقادر صحن میں سکون سے ٹہل سکے۔ بدلے میں وہ دوپہر کو چھت پر جا کر سوئے گا، اور برتن نہیں کھڑکائے گا۔

ایک ہفتے بعد لڑکے کی آنکھ رات دو بجے کھلی۔ صحن سے ہلکی سی آواز آ رہی تھی۔

اس نے کھڑکی سے جھانکا۔ عبدالقادر بند روٹر کے پاس بیٹھا تھا، اور اس کی ٹمٹماتی بتیوں کو دیکھ رہا تھا جیسے کوئی آگ تاپتا ہے۔

"کیا ہوا؟" لڑکے نے پوچھا۔

"کچھ نہیں،" جن نے کہا۔ "بس اب اس کے بغیر صحن کچھ خالی خالی لگتا ہے۔"