لکشمی چوک کے بشیر تندور والے کے بیٹے نے کمپیوٹر سائنس پڑھی تھی، اور وہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ پڑھائی ضائع نہیں ہوئی۔
اس نے چین سے ایک روبوٹ بازو منگوایا، اسے پروگرام کیا، اور تندور کے ساتھ لگا دیا۔ بازو پیڑا اٹھاتا، اسے ٹھیک سولہ سینٹی میٹر کا گول کرتا، اور ایک مخصوص زاویے سے تندور کی دیوار پر لگا دیتا۔ ہر نان ایک جیسا، ہر نان پینتالیس سیکنڈ میں۔

پہلے ہفتے بڑی بھیڑ لگی۔ لوگ ویڈیو بناتے، بچے تالیاں بجاتے۔ بشیر چاچا ایک اسٹول پر بیٹھے دیکھتے رہے، کچھ نہیں بولے۔
دوسرے ہفتے گاہک کچھ کم ہوئے۔ تیسرے ہفتے اور کم۔
بیٹے نے ڈیٹا نکالا۔ وقت کم لگ رہا تھا، آٹا کم لگ رہا تھا، گیس کم لگ رہی تھی۔ پھر بھی بکری آدھی ہو گئی تھی۔
اس نے ایک پرانے گاہک کو روکا، جو تیس سال سے یہیں سے نان لیتا تھا اور اب سامنے والے تندور پر جا رہا تھا۔
"چاچا، کیا مسئلہ ہے؟ نان تو بالکل ٹھیک ہیں۔"
"ٹھیک ہی تو مسئلہ ہے،" اس نے کہا۔ "تمہارے ابا کا نان کبھی ایک طرف سے موٹا ہوتا تھا، کبھی ایک کنارہ جلا ہوا۔ میری بیوی کو جلا کنارہ پسند ہے، مجھے موٹا حصہ۔ ہم بانٹ کر کھاتے تھے۔ اب بانٹنے کو کچھ نہیں بچا۔"
اس رات بیٹا دیر تک کوڈ لکھتا رہا۔ اگلی صبح روبوٹ کا ہر نان ذرا مختلف تھا۔ کبھی ایک طرف سے کھنچا ہوا، کبھی تھوڑا بڑا، اور ہر دسواں نان کنارے سے ہلکا سا جلا ہوا۔
بشیر چاچا اسٹول سے اٹھے، ایک نان توڑا، اور پہلی بار بولے۔
"ہوں۔ اب کچھ کچھ میرا لگتا ہے۔"
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!