ملتان کے اس محلے میں تین سو بیس میٹر تھے اور منظور ان سب کو جانتا تھا۔ کس گھر کا میٹر گرمیوں میں دوڑتا ہے، کس کا اے سی چوری کی تار پر چلتا ہے، کس کا بل تین مہینے سے جمع نہیں ہوا۔

گلی نمبر سات کے آخری گھر کا میٹر اسے پریشان کرتا تھا۔ جون میں بھی اکتیس یونٹ۔ جولائی میں انتیس۔

میٹر ریڈر

پہلے اس نے سوچا کہ کنڈا ہے۔ اس نے تار دیکھی، چھت دیکھی، ساتھ والی دیوار دیکھی۔ کچھ نہیں تھا۔

اگست کی ایک دوپہر وہ ریڈنگ لینے گیا تو دروازہ کھلا تھا۔ اندر ایک بوڑھی عورت چارپائی پر بیٹھی ہاتھ کا پنکھا جھل رہی تھی۔ بلب بجھا ہوا تھا۔ پنکھا چھت سے لٹکا تھا، بند۔

"اماں، پنکھا خراب ہے؟"

"نہیں بیٹا، ٹھیک ہے۔ رات کو چلاتی ہوں، دو گھنٹے۔"

منظور نے کچھ نہیں کہا۔ ریڈنگ لکھی، اکتیس، اور نکل آیا۔

دفتر جا کر اس نے اس گھر کی فائل نکالی۔ بیوہ پنشن، دو ہزار ایک سو روپے۔ پچھلے سال بل ایک بار تین ہزار آیا تھا، جب اندازے سے ریڈنگ لکھی گئی تھی۔ فائل پر اس عورت کا انگوٹھا لگا تھا، اور ساتھ کسی کلرک نے لکھا تھا: "اقساط میں جمع کرایا۔"

منظور کے اختیار میں زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ بل کم نہیں کر سکتا تھا، اور جھوٹ لکھنا اسے نہیں آتا تھا۔

اگلے مہینے وہ ریڈنگ لینے گیا تو ساتھ ایک تھیلا تھا۔ اس میں ایک چھوٹا سا سولر پنکھا تھا اور ایک بیٹری، جو اس کے بیٹے کے کمرے میں پڑے پڑے پرانی ہو رہی تھی۔

"یہ محکمے کی طرف سے ہے، اماں،" اس نے کہا۔

یہ اس کی زندگی کا پہلا جھوٹ تھا۔ اسے امید تھی کہ گنتی میں شمار نہیں ہوگا۔