ہماری گلی میں وکٹ اینٹوں کی ہوتی تھی اور قانون ایک: گیند حاجی صاحب کے گھر گئی تو آؤٹ بھی، اور گیند بھی ختم۔

حاجی صاحب گیٹ نہیں کھولتے تھے۔ گھنٹی بجاؤ تو اندر سے بس ایک آواز آتی، "جاؤ، پڑھائی کرو۔" ہم نے ان کی دیوار پر چڑھ کر دیکھنے کی کوشش کی، کتے سے ڈرے، دعائیں مانگیں۔ کوئی گیند کبھی واپس نہیں آئی۔

بیس سال کی گیندیں

میرے بچپن کی کم از کم چالیس گیندیں اس گیٹ کے پیچھے گئیں۔ پھر میرا چھوٹا بھائی بڑا ہوا اور اس کی گیندیں جانے لگیں۔ پھر محلے کے نئے بچوں کی۔

پچھلے مہینے ہمیں اطلاع ملی کہ حاجی صاحب ریٹائر ہو کر بیٹے کے پاس اسلام آباد جا رہے ہیں۔ جانے سے ایک دن پہلے، اتوار کی صبح، ان کا گیٹ پہلی بار پورا کھلا۔

وہ ایک بوری گھسیٹ کر باہر لائے۔ پھر دوسری۔ پھر تیسری۔

بوریاں الٹیں تو گلی گیندوں سے بھر گئی۔ لال ٹیپ والی، پیلی، ہری، کچھ اتنی پرانی کہ ربڑ سخت ہو چکا تھا۔ ہر گیند پر مارکر سے ایک تاریخ لکھی تھی۔

میں نے ایک اٹھائی۔ اس پر لکھا تھا: "14 اگست 1998۔ ماشاءاللہ چھکا تھا۔"

دوسری پر: "مارچ 2003۔ یہ لڑکا اچھا اسپنر بنے گا۔"

ہم سب، جو اب بڑے ہو چکے تھے، اپنی گیندیں ڈھونڈنے لگے۔ قاسم کو اپنی وہ گیند ملی جو اس نے انٹر کے امتحان سے ایک دن پہلے ماری تھی۔ اس پر لکھا تھا: "اسے پڑھائی کرنی چاہیے۔"

حاجی صاحب گیٹ پر کھڑے تھے اور پہلی بار کسی نے انہیں مسکراتے دیکھا۔

"اگر واپس کر دیتا،" انہوں نے کہا، "تو تم لوگ گلی میں کبھی سنبھل کر نہ کھیلتے۔ اور میں تمہارے چھکے کیسے گنتا؟"