راجہ بازار میں ماسٹر غفور کا طوطا مشہور تھا۔ وہ پنجرے سے نکلتا، پرچیوں کی قطار پر چلتا، اور ایک پرچی چونچ میں اٹھا کر گاہک کی طرف بڑھا دیتا۔ بیس روپے میں قسمت۔
ایک منگل کو ایک لڑکا آیا جس کی قمیض پر نوکری کے انٹرویو کی استری تھی۔ ماسٹر غفور نے ہمیشہ کی طرح سیٹی بجائی۔ طوطا نکلا، پرچیوں تک گیا، انہیں دیکھا، اور واپس پنجرے میں جا بیٹھا۔

ماسٹر نے دوبارہ سیٹی بجائی۔ طوطا نہیں ہلا۔
"آج اس کی طبیعت ٹھیک نہیں،" ماسٹر نے کہا اور بیس روپے واپس کر دیے۔
اگلے دن طوطے نے ایک عورت کو بھی پرچی نہیں دی۔ پھر ایک بوڑھے کو۔ پھر ایک دکاندار کو۔ تیسرے دن تک بازار میں بات پھیل گئی کہ غفور کا طوطا ہڑتال پر ہے، اور لوگ پہلے سے زیادہ آنے لگے، صرف یہ دیکھنے کہ آج بھی منع کرتا ہے یا نہیں۔
ماسٹر نے ہری مرچ دے کر دیکھی، امرود دے کر دیکھا، منت کر کے دیکھا۔ رات کو گھر جا کر پرچیاں کھولیں، جو اس نے تیس سال پہلے ایک پریس سے چھپوائی تھیں۔
"آپ کو جلد خوش خبری ملے گی۔" "آپ کا رکا ہوا کام بن جائے گا۔" "دشمن ناکام ہوگا۔"
ساری پرچیاں ایک جیسی تھیں۔ تیس سال سے ایک جیسی۔
اس رات ماسٹر غفور دیر تک بیٹھا رہا۔ صبح وہ گتے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور اس پر لکھا: "فال بند۔ بات سنی جاتی ہے۔ مفت۔"
پہلے دن کوئی نہیں رکا۔ دوسرے دن انٹرویو والا لڑکا آیا، جسے نوکری نہیں ملی تھی، اور ایک گھنٹہ بیٹھا رہا۔ جاتے ہوئے اس نے بیس روپے رکھ دیے۔ ماسٹر نے منع کیا، اس نے نہیں سنا۔
طوطا پنجرے سے نکلا اور نوٹ کو چونچ میں اٹھا کر ماسٹر کی جھولی میں ڈال دیا۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!