پہلی کال آئی تو ثنا دفتر سے نکل رہی تھی۔

"زبیدہ؟ بیٹا، تم نے کھانا کھایا؟"

غلط نمبر

"جی، آپ کو غلط نمبر ملا ہے۔"

دوسری طرف لمبی خاموشی ہوئی۔ پھر کسی نے آہستہ سے فون رکھ دیا۔

اگلی شام پھر وہی آواز آئی۔ پھر اس سے اگلی شام۔ ٹھیک سات بج کر دس منٹ پر۔ ثنا نے نمبر بلاک کرنے کا سوچا، مگر ہر بار انگلی رک جاتی۔ آواز میں کوئی ایسی بات تھی جیسے پوچھنے والا جواب کی امید نہیں کر رہا، بس پوچھنے کی عادت پوری کر رہا ہے۔

دسویں دن اس نے کہہ دیا، "جی ابو، کھا لیا۔"

دوسری طرف سے ایسی سانس سنائی دی جیسے کوئی بہت دیر سے اسے روکے بیٹھا ہو۔

"دال تھی یا سبزی؟"

"آلو گوشت۔"

"اچھا، اچھا۔ ٹھیک ہے۔ اپنا خیال رکھنا۔"

اس کے بعد یہ روز کا معمول ہو گیا۔ دو منٹ کی بات۔ موسم، کھانا، دفتر۔ وہ کبھی نہیں پوچھتے تھے کہ وہ کون ہے، اور ثنا کبھی نہیں بتاتی تھی کہ وہ کون نہیں ہے۔

تین مہینے بعد ایک شام سات بج کر دس منٹ گزر گئے، پھر پندرہ، پھر آدھا گھنٹہ۔ ثنا نے پہلی بار خود اس نمبر پر کال کی۔

ایک نوجوان نے اٹھایا۔ "یہ ابو کا فون ہے۔ وہ پرسوں اسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔ آپ کون؟"

ثنا نے ایک لمحہ سوچا۔

"زبیدہ کی سہیلی ہوں،" اس نے کہا۔ "کون سا اسپتال؟"

حیدرآباد زیادہ دور نہیں تھا۔ ہفتے کو وہ پھل لے کر گئی۔ بزرگ نے اسے دیکھا، پہچانا نہیں، مگر مسکرائے۔ ان کے سرہانے ایک پرانی تصویر رکھی تھی، ایک لڑکی کی، جس کی شکل ثنا سے بالکل نہیں ملتی تھی۔

"زبیدہ کینیڈا میں ہوتی ہے،" بیٹے نے آہستہ سے بتایا۔ "پانچ سال سے فون نہیں کیا۔ ابو نمبر بھی بھول گئے ہیں۔ جو یاد ہے، وہ اس کا پرانا نمبر ہے۔"

ثنا نے بزرگ کا ہاتھ پکڑا۔

"کھانا کھایا، ابو؟"