پشاور کے محلہ سیٹھیاں میں چار دن بعد شادی تھی، کہ دلہن کا زیور غائب ہو گیا۔ سات تولے کا ہار، خاندانی۔ وہ ایک صندوقچے میں تھا، صندوقچہ اوپر والے کمرے میں، اور کمرہ اندر سے کنڈی لگا کر دادی جان سوتی تھیں۔ پولیس آئی، نوکرانی کو لے گئی، اور بات ختم ہو گئی۔
پھر کسی نے مس جہاں آرا کو بلایا۔ وہ چالیس سال گرلز کالج میں کیمسٹری پڑھا چکی تھیں، اور قصہ خوانی کی ساری گلیوں میں ان کی شاگردیں تھیں۔ انہوں نے کنڈی دیکھی، صندوقچہ دیکھا، پھر جھک کر فرش پر انگلی پھیری اور انگلی سونگھی۔
کسی نے دیوار نہیں پھاندی، انہوں نے کہا۔ کنڈی بھی نہیں کھلی۔ پولیس والے کو کہہ دو، نوکرانی کو چھوڑ دے۔ بے چاری کو سیڑھیاں چڑھنے سے گھٹنوں میں درد ہوتا ہے، اس نے کہا تھا۔ وہ دو ہفتے اوپر آئی ہی نہیں۔ فرش پر چاول کے آٹے کی ہلکی سی سفیدی ہے، اور عمدہ عطر کی بو۔
یعنی چور گھر ہی کے اندر تھا۔ سب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ دولہے والوں نے خط لکھا تھا کہ زیور کے بغیر بارات نہیں آئے گی۔ دلہن کے باپ نے وہ خط مس کو دکھایا۔ انہوں نے خط پڑھا اور تہہ کر کے رکھ دیا۔ پھر کہا: دادی جان سے اکیلے میں مل لوں۔
دادی جان بستر پر تھیں، تسبیح ہاتھ میں۔ مس جہاں آرا کرسی پر بیٹھیں، اور چائے بنائی۔ وہ اس گھر کی پرانی سہیلی تھیں۔
تکیے کے غلاف میں چاول کا آٹا ہے، زینب، انہوں نے نرمی سے کہا۔ تم نے ہار کو آٹے کی بوری میں چھپایا، پھر رات کو تکیے میں۔ کیوں؟
تسبیح رک گئی۔ بہت دیر بعد دادی جان نے کہا: بچی نے مجھے بتایا تھا۔ وہ اس لڑکے سے نکاح نہیں کرنا چاہتی۔ وہ ڈاکٹری پڑھنا چاہتی ہے۔ اس کا باپ نہیں مانے گا۔ وہ لوگ زیور کے بغیر نکاح نہیں کریں گے، مجھے پتا تھا۔ وہ پیسے کے لوبھی ہیں۔ جو لوگ ہار کی خاطر رشتہ توڑیں، ان سے وہ بچ ہی جائے تو اچھا۔ میری ماں کا ہار ہے۔ میری چوری کون پکڑے گا؟
مس جہاں آرا نے چائے کا ایک گھونٹ لیا۔ چائے میں چینی زیادہ تھی۔
نیچے سب کو انتظار تھا۔ انہوں نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر اعلان کیا: چور پکڑا گیا۔ چوہا تھا۔ ہار کبھی نہیں ملے گا۔ ہاں، دولہے والوں کو اطلاع کر دیجیے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔
ایک گھنٹے میں رشتہ ٹوٹ گیا۔ چھ سال بعد ایک نوجوان ڈاکٹر نے قصہ خوانی میں کلینک کھولا۔ اس کے گلے میں پرانا سات تولے کا ہار تھا، اور افتتاح کا فیتہ ایک بوڑھی استانی نے کاٹا۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!