گوادر کے ماہی گیر کہتے تھے کہ کشتی پر عورت کا آنا بدشگونی ہے۔ مگر ماہ گنج کے دادا کو یہ پروا نہیں تھی، کیونکہ اس کا کوئی پوتا نہیں تھا اور وہ بوڑھے ناخدا تھے۔ وہ اسے ساحل پر راتوں کو ساتھ بٹھا کر ستارے سکھاتے۔ یہ ستارہ قطب ہے، اس سے سمت لو۔ یہ سات بہنیں ہیں، ان کے نکلنے سے وقت جانو۔ لہر کا رخ پیر کے نیچے محسوس کرو، آنکھوں سے نہیں۔

دادا مر گئے تو اس کے چچا نے کشتی سنبھال لی۔ نئی کشتی پر جی پی ایس لگا تھا، ریڈیو تھا۔ کوئی اب ستارے نہیں دیکھتا تھا۔ ماہ گنج اٹھارہ سال کی ہوئی تو چچا اسے مچھلی صاف کرنے کے لیے ساتھ لے جانے لگا، اور وہ بھی اس شرط پر کہ ساحل سے زیادہ دور نہیں۔ ایک رات پیسوں کے لالچ میں وہ بہت گہرے پانی میں نکل گئے۔

تیسرے پہر طوفان آیا۔ پانی کی ایک بڑی لہر عرشے پر آئی۔ جب تھما تو جی پی ایس مردہ تھا، ریڈیو چپ تھا، اور انجن میں صرف اتنا تیل بچا تھا جو ایک سیدھی راہ پر کام آتا۔ چاروں طرف ایک جیسا اندھیرا تھا۔ چچا اور پانچ مرد ایک دوسرے پر چلا رہے تھے۔ کوئی کہتا مشرق، کوئی شمال۔ غلط سمت کا مطلب تھا ایران کی سرحد یا کھلا سمندر۔

ماہ گنج پچھلے حصے میں مچھلی کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ وہ اٹھی اور اس نے اوپر دیکھا۔ بادل ہٹ چکے تھے۔

چچا، اس نے کہا۔

چپ رہ!

چچا۔ اس نے بازو اٹھایا۔ وہ جو چھوٹا سا چمک رہا ہے، وہ قطب ہے۔ سات بہنیں اس طرف ہیں، یعنی رات آدھی سے زیادہ گزر چکی ہے۔ لہر ہمیں مغرب سے لگ رہی ہے۔ گوادر اس طرف ہے۔ انجن ابھی بند رکھو، ہوا کے ساتھ چلو، اور صبح سے پہلے تیل مت جلاؤ۔

سب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر چچا نے آہستہ سے تختہ چھوڑ دیا اور پیچھے ہٹ گیا۔

چودہ گھنٹے بعد گوادر کی ہتھوڑا نما پہاڑی دکھائی دی۔ ساحل پر سیکڑوں لوگ کھڑے تھے۔ پہلے مرد اترے، پھر ماہ گنج۔ کسی نے کچھ نہیں کہا۔ اگلے ہفتے چچا پھر سمندر پر گیا۔ ماہ گنج کو ساتھ لے گیا، اور مچھلی اس سے خود صاف کروائی۔ مگر رات کو تختے پر اسے ہی بٹھایا۔