امی نے وہ وائس نوٹ مرنے سے ایک گھنٹہ پہلے بھیجا تھا۔ تین سیکنڈ۔ میں ٹورنٹو میں میٹنگ میں تھی۔ سوچا، بعد میں۔ پھر فون آ گیا۔

اس کے بعد چالیس دن میں اس نیلے نشان کو دیکھتی رہی۔ سنا نہیں۔ کیا پتا اس میں کیا ہو۔ جب تک نہیں سنا، اس میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ میں نے طے کیا کہ گھر جا کر ان کے بستر پر بیٹھ کر سنوں گی۔ ڈراموں والی بات ہے، مجھے پتا ہے۔

کراچی ایئرپورٹ کے باہر ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے فون ہاتھ سے نکلا، اور پہیہ اوپر سے گزر گیا۔

کمپنی نے کہا بیک اپ بند تھا۔ مال والوں نے سر ہلا دیا۔ آخر صدر کی موبائل مارکیٹ میں سیڑھیوں کے نیچے شیرو ملا، جس کی میز پر سولڈرنگ کا دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس نے فون کھول کر چپ کو دیکھا اور بولا: پانچ دن، پندرہ ہزار، گارنٹی کوئی نہیں۔

پانچ دن آٹھ ہو گئے۔ پھر گیارہ۔ میرے بھائی نے کہا کہ لوٹ رہا ہے۔ چودھویں دن اس کا فون آیا۔ میں رش میں اس کی میز کے سامنے کھڑی تھی جب اس نے کمپیوٹر میری طرف گھمایا۔

"فائل نکل آئی ہے۔ سن لیں۔ پر باجی، پہلے بتا دوں۔"

"کیا؟"

"آپ سن لیں۔"

میں نے چلایا۔

کھرکھراہٹ۔ کپڑے کی رگڑ۔ بہت دور ایک ٹی وی، شاید خبریں۔ کسی نے ہلکا سا سانس لیا، یا پنکھے کی آواز تھی۔ پھر بند۔

میں نے چار بار سنا۔ شیرو نے کہا: جیب میں دب گیا ہوگا۔ یا تکیے کے نیچے۔ ہوتا ہے۔ بوڑھے لوگوں سے اکثر ہو جاتا ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔ پندرہ ہزار میں نے گن کر دیے۔ اس نے کہا: کہیں تو ٹی وی کی آواز ہٹا کر صاف کر دوں؟ میں نے کہا نہیں۔

وہ فائل اب میرے نئے فون میں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ وہ ٹی وی کون سا تھا، کمرے میں کہاں رکھا تھا، اور امی اسے بند کیوں نہیں کرتی تھیں۔ کبھی کبھی لگا لیتی ہوں۔ تین سیکنڈ بہت جلدی ختم ہو جاتے ہیں۔