دریائے سندھ کے کنارے ایک گھنا جنگل تھا، جس میں پرندوں کی ہر سال ایک بڑی محفل ہوتی تھی۔ کوئل گاتی، بلبل تان لگاتی، طوطے نقلیں اتارتے، اور مور ناچتا۔ اس سال محفل سے پہلے کالو کوا بھی آ کر ایک شاخ پر بیٹھ گیا، اور جوش میں آ کر اس نے بھی ایک لمبی کائیں کائیں لگا دی۔

ساری محفل نے کانوں پر پر رکھ لیے۔ مور نے غرور سے گردن گھمائی۔ یہ بے سرا یہاں کیا کر رہا ہے؟ اس کی آواز سے تو پھول مرجھا جائیں گے۔ سب ہنس پڑے۔ فیصلہ ہوا کہ کوا جنگل کے کنارے ریتلے ٹیلے پر رہے گا، جہاں اس کی آواز کوئی نہ سنے۔

کالو چپ چاپ چلا گیا۔ ٹیلے پر نہ پھل تھے نہ سایہ۔ وہ سارا دن دریا کے کنارے مری ہوئی مچھلیاں ڈھونڈتا اور شام کو پانی دیکھتا رہتا۔ مہینے گزرے۔ وہ دریا کو اتنی اچھی طرح پہچاننے لگا جتنا مور اپنے پروں کو جانتا تھا۔

ایک رات آسمان پر بادل نہیں تھے، پھر بھی کالو کی آنکھ کھل گئی۔ پانی کی آواز بدل گئی تھی۔ دریا میں گدلے پن کی بو تھی۔ کنارے کی چیونٹیاں اوپر چڑھ رہی تھیں۔ دور پہاڑوں پر کہیں بارش ہوئی تھی، اور پانی آ رہا تھا۔

کالو اڑا اور سیدھا جنگل کے بیچ پہنچا۔ سب سو رہے تھے۔ اس نے اپنی پوری طاقت سے کائیں کائیں شروع کی۔ مور نے نیند میں غصے سے کہا: رات کو بھی چین نہیں لینے دیتا! کوئل نے کہا: اسے چپ کراؤ۔

بلبل کی آواز میٹھی تھی۔ اگر وہ پکارتی تو کوئی نیند میں اسے گیت سمجھ کر سوتا رہتا۔ مگر کوے کی آواز ایسی تھی کہ کوئی اس میں سو نہیں سکتا تھا۔ غصے میں سب جاگ گئے۔ جاگے تو پانی کی آواز انہوں نے بھی سنی۔

اس رات پورا نچلا جنگل ڈوب گیا، مگر ایک بھی گھونسلے کا بچہ نہ مرا۔ سب اونچے برگد پر اکٹھے تھے۔ صبح ہوئی تو مور بہت دیر چپ رہا، پھر نزدیک آ کر بولا: اس سال کی محفل میں تمہیں گانا ہوگا۔

کالو نے سر ہلایا۔ نہیں۔ اپنا گانا اپنے پاس رکھو۔ دریا پھر بدلا تو جگا دوں گا، اور تب بھی تمہیں برا لگے گا۔