میں پندرہ سال کا تھا اور کاسی روڈ پر حاجی لالا کے ہوٹل میں چائے دیتا تھا۔ ہوٹل کے بیچ میں ٹین کی دیوار تھی۔ وہ حاجی لالا نے خود لگوائی تھی، تب جب عبدالرحمان اور عبدالوحید نے مکان کے جھگڑے میں ایک دوسرے پر سماوار پھینکا تھا۔ دونوں سگے بھائی تھے اور دونوں نے ہوٹل بدلنے سے انکار کر دیا تھا۔

چنانچہ ایک دیوار کے اس طرف، ایک اس طرف۔ بیس سال۔

وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔ مجھ سے کرتے تھے۔

"اسے کہو کھانسنا بند کرے۔"

میں ادھر جاتا۔ "چچا، وہ کہتے ہیں..."

"اسے کہو میرا سینہ ہے، میں کھانسوں گا۔ اور اسے کہو کہ کوئٹہ کی سردی میں بغیر ٹوپی کے نکلے گا تو یہی ہوگا۔ کل دیکھا تھا میں نے۔"

"چچا، وہ کہتے ہیں بغیر ٹوپی کے مت نکلیں۔"

"اسے کہو اپنے کام سے کام رکھے۔"

میں دن میں ایسے بیس چکر لگاتا تھا۔ پیسے نہیں ملتے تھے ان کے۔ حاجی لالا نے کہا تھا یہ بھی چائے کا حصہ ہے۔

اس جنوری میں بہت برف پڑی۔ ایک صبح عبدالرحمان نہیں آیا۔ دوسرے دن بھی نہیں۔ عبدالوحید بیٹھا رہا۔ چائے ٹھنڈی ہو گئی۔ تیسرے دن اس نے مجھے بلایا اور دیوار کی طرف دیکھے بغیر کہا:

"بہت خاموشی ہے آج کل۔ یہ ہوٹل ہے یا قبرستان؟"

میں نے کہا چچا، وہ بولان اسپتال میں ہیں۔ سینہ جکڑ گیا ہے۔

وہ کچھ نہیں بولا۔ چائے کے پیسے رکھے اور چلا گیا۔

اس شام مجھے تھرماس پہنچانے بولان بھیجا گیا۔ عبدالوحید وارڈ میں بیڈ کے ساتھ کرسی پر بیٹھا تھا۔ دونوں بیس سال بعد ایک ہی طرف تھے۔ دونوں نے مجھے دیکھا۔

عبدالرحمان نے آکسیجن کے نیچے سے کہا: "اسے کہو پتی کم ڈالتا ہے تیرا حاجی۔"

عبدالوحید میری طرف مڑا۔ "کہہ دو اسے کہ چینی بھی۔"

میں وہیں کھڑا رہا۔ وہ دونوں میرا انتظار کرتے رہے۔