ہماری گلی میں قانون سیدھا تھا۔ گیند چاچا اکرام کے گھر گئی تو گئی۔ ہم نے انہیں شیشے والے چاچا کا نام دیا تھا، کیونکہ ان کی کھڑکی کا ایک شیشہ ہم نے 2004 میں توڑا تھا اور انہوں نے اسے کبھی نہیں بدلا، تاکہ ہمیں یاد رہے۔ وہ اسی ٹوٹے شیشے سے چلاتے: اب نہیں ملے گی، بدمعاشو!

ہم نے ہر طریقہ آزمایا۔ کاشف کی امی کو بھیجا۔ انہوں نے کاشف کی امی کو چائے پلا کر واپس بھیج دیا، گیند کے بغیر۔ یاسر دیوار پھاند کر گیا اور ان کی مرغی کے ساتھ پکڑا گیا۔ ہم نے ان کی دیوار پر کوئلے سے لکھا، وہ صبح چونا پھیر دیتے۔ اگلی رات ہم پھر لکھتے۔ ان کی دیوار پورے محلے میں سب سے سفید تھی۔

ایک گرمیوں میں ہم نے طے کیا کہ بدلہ لیں گے اور ان کی گلی والی بتی توڑیں گے۔ یہ منصوبہ اس لیے ناکام ہوا کہ نشانہ چوک گیا اور گیند ان کے گھر چلی گئی۔

پچھلے سال وہ مر گئے۔ کوئی رشتہ دار نہیں نکلا۔ محلے والوں نے گھر کھولا تو پچھلے کمرے میں گتے کی پیٹیاں تھیں۔ ہماری گیندیں۔ ایک ہزار سے اوپر۔ سوکھی، ٹیپ اکھڑی ہوئی، کچھ کو چوہوں نے کھایا ہوا۔ نہ کوئی پرچی، نہ کوئی خط۔

اس کے بعد ہفتوں بحث چلی۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ ان کا ایک بیٹا تھا جو گیند کے پیچھے سڑک پر گیا تھا۔ اماں کہتی ہیں بیٹا کوئی نہیں تھا، بیوی بھاگ گئی تھی۔ کاشف کا کہنا ہے کہ بڈھا بس کنجوس تھا اور چیز پھینکتا نہیں تھا۔ مجھے کاشف کی بات ٹھیک لگتی ہے، ان کے گھر سے پچھلے بیس سال کے اخبار بھی نکلے تھے۔

گیندیں بچوں میں بانٹ دی گئیں۔ زیادہ تر میں جان نہیں رہی۔ پھر بھی پہلی ہی شام ایک ان کے گھر کے صحن میں چلی گئی، اور بچے دروازے کے باہر کھڑے رہے۔ کسی نے اندر جا کر نہیں اٹھائی۔ گھر خالی تھا، پھر بھی۔