انارکلی میں میری دکان کو پچپن سال ہو گئے۔ لوگ عجیب چیزیں لاتے ہیں۔ ایک صاحب اپنے مرحوم والد کی گھڑی لائے کہ اس میں سے خوشبو نکال دو۔ مگر یہ عورت اپنی قسم کی پہلی تھی۔

سفید بال، کالی چادر، ساتھ ایک لڑکا جو دیوار کی بھاری گھڑی اٹھائے ہانپ رہا تھا۔ جرمن ساخت، اچھی چیز تھی۔ کمانی ٹوٹی ہوئی۔

"ٹھیک کر دیجیے،" اس نے کہا۔ "یہ گیارہ منٹ پیچھے چلتی ہے۔ گیارہ منٹ پیچھے ہی رہنی چاہیے۔"

میں نے عینک اتاری۔ "بی بی، میں گھڑی ساز ہوں۔ غلط وقت کا کام نہیں کرتا۔"

"اسے درست مت کیجیے گا، بس چلا دیجیے۔"

"کیوں؟"

"یہ میری گھڑی ہے۔"

بس۔ اس کے بعد ایک لفظ نہیں۔ پیشگی دی اور چلی گئی۔

میں نے ایک ہفتہ لگایا۔ کام آسان تھا، مگر دماغ اسی میں لگا رہا۔ گھر آ کر بیوی کو بتایا۔ اس نے روٹی پلٹتے ہوئے کہا: میاں کا چکر ہوگا۔ کوئی ہمیشہ دیر سے آتا ہوگا۔ میرے بھانجے نے کہا نماز کا حساب ہوگا، کہیں اور کی گھڑی کا۔ دکان کے لڑکے کا خیال تھا کہ کوئی مرا اسی وقت ہوگا، گیارہ منٹ پہلے۔ لڑکے ڈرامے بہت دیکھتے ہیں۔

گھڑی کے پیچھے کھول کر دیکھا۔ کسی نے بہت عرصہ پہلے پینڈولم کا نٹ جان بوجھ کر ڈھیلا کیا تھا۔ صفائی سے، کسی جاننے والے کے ہاتھ کا کام۔ تو یہ غلطی کسی کی پسند تھی۔ اتنا تو پتا چلا۔

وہ آئی تو گھڑی چل رہی تھی۔ پورے گیارہ منٹ پیچھے۔ اس نے اپنی کلائی کی گھڑی سے ملایا، سر ہلایا، اور باقی پیسے گن کر رکھ دیے۔

میں نے آخری بار کوشش کی۔ "بی بی، صرف اتنا بتا دیں۔ میری بیوی کہتی ہے میاں کا چکر ہے۔"

وہ دروازے پر رکی۔ پہلی بار تھوڑا سا مسکرائی۔

"آپ کی بیوی سمجھ دار ہیں،" اس نے کہا، اور چلی گئی۔

میری بیوی آج تک یہ بات سناتی ہے۔ مجھے اب بھی پکا نہیں کہ اس کا مطلب کیا تھا۔