شہرِ نیلم میں ایک بازار تھا جو صرف رات کو لگتا تھا۔ وہاں شیشے کی بوتلوں میں خواب بکتے تھے۔ امیر لوگ سمندر کی سیر کا خواب خریدتے، جو عمر بھر جہاز پر نہ بیٹھے تھے۔ بوڑھے جوانی کا خواب لیتے۔ غریب اپنے سنہرے خواب سستے بیچ کر روٹی خریدتے اور پھر ساری عمر کالی نیند سوتے۔

یتیم لڑکا فیروز بازار میں آیا تو اس کے پاس بیچنے کو صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ ہر رات اسے ایک جلتا ہوا گھر دکھائی دیتا اور کوئی عورت پکارتی۔ اس نے بوتل بوڑھے سوداگر کے سامنے رکھی۔ کالا دھواں اس میں گھوم رہا تھا۔

سوداگر نے اسے سونگھا اور ناک چڑھائی۔ ایسے خواب کا کوئی خریدار نہیں، بیٹا۔ پھر بھی میں ایک سکہ دے دیتا ہوں۔ لے جا، آج رات کھانا کھا۔ کل سے تجھے کوئی خواب نہیں آئے گا۔ آرام سے سوئے گا۔

سکہ مل گیا۔ اس رات فیروز نے پیٹ بھر کھانا کھایا اور بے خواب نیند سویا۔ اگلی رات بھی۔ پندرہ دن میں اس کا چہرہ بھر آیا۔ لیکن ایک عجیب بات ہوئی۔ سولہویں صبح وہ اٹھا تو اسے یاد نہ آیا کہ وہ کس چیز سے بھاگا تھا۔ پھر اسے یاد نہ آیا کہ وہ عورت کون تھی۔ پھر اسے یہ یاد نہ رہا کہ کبھی کوئی عورت تھی۔

وہ بھاگتا ہوا بازار پہنچا۔ میرا خواب واپس کر دو!

اب اس کی قیمت سو اشرفیاں ہے، سوداگر نے آرام سے کہا۔ وہ دھواں اب نایاب مال ہے۔ وہ ایک ہی خواب تھا جس میں تیری ماں زندہ تھی۔ ایک سلطان کی بیوی کل اسے دیکھنے آئی تھی۔ کہتی ہے کہ اپنے کسی پیارے کی پکار سننے کو ترستی ہے، چاہے آگ ہی میں کیوں نہ ہو۔

فیروز نے تین سال بازار میں بوجھ اٹھائے۔ پھر سو اشرفیاں لے کر آیا۔ اس رات اس نے اپنی کوٹھری میں سر تکیے پر رکھا۔ گھر جلا۔ عورت نے پکارا: فیروز۔

وہ پسینے میں ڈوبا ہوا اٹھا، اور ساری رات خوشی سے روتا رہا۔ اس نے آواز پہچان لی تھی۔