وادی کے آخری سرے پر ایک جھیل تھی جس کے گرد سات اونچے پتھر کھڑے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ جو اس میں اپنے ہاتھ سے چنا ہوا پتھر پھینکے اور سوال پوچھے، پانی کی لہروں میں اسے جواب دکھائی دیتا ہے۔ مگر ہر انسان کو عمر میں صرف ایک سوال ملتا تھا، اس کے بعد جھیل اس کے لیے گدلی ہو جاتی تھی۔

لوگ دور دور سے آتے۔ سوداگر پوچھتے کہ کون سا مال بڑھے گا۔ بادشاہ پوچھتے کہ دشمن کب حملہ کرے گا۔ ایک شاعر نے پوچھا کہ کیا میرا نام رہے گا، اور اسے جو جواب ملا اس کے بعد وہ کبھی نہیں بولا۔ کوئی جھیل سے خوش واپس نہ جاتا، کیونکہ جواب سچے ہوتے تھے۔

گاؤں کی لڑکی پری زاد نے اپنا سوال چودہ سال سنبھال کر رکھا۔ لوگ اس سے پوچھتے کہ کیا پوچھو گی؟ وہ سوچتی کہ میری شادی کس سے ہوگی؟ میری عمر کتنی ہے؟ ماں کا مرض کب جائے گا؟ ہر سوال کے ساتھ ایک ڈر آتا تھا کہ اگر جواب برا ہوا تو؟

ایک خشک سال وادی میں قحط پڑا۔ ایک اجنبی بچہ جھیل پر بیٹھا ملا۔ اس کی ماں قافلے میں بچھڑ گئی تھی۔ وہ بولتا نہیں تھا، اور اس نے اپنا سوال ابھی پوچھا نہیں تھا۔ وہ پتھر پکڑے کانپ رہا تھا۔ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کیسے کرنا ہے۔

پری زاد نے اپنا پتھر اٹھایا۔ وادی کے بڑے چلائے: رک جا، تیرا ایک ہی موقع ہے!

اس نے پتھر پانی میں پھینکا اور پوچھا: اس بچے کی ماں کہاں ہے؟

جھیل چپ رہی، پھر چاندی جیسی لہریں اٹھیں۔ ان میں مشرق کا درہ تھا، ایک سوکھا نالہ، اور ایک تھکی ہوئی عورت۔ تین دن بعد پری زاد ماں بیٹے کو ملا کر لوٹی۔

وہ جھیل پر گئی تو پانی اس کے لیے گدلا تھا، جیسا کہ ہونا تھا۔ اس نے اپنی شکل نہ دیکھی۔ وہ ہنس دی۔ اس کی عمر کتنی تھی، شادی کس سے ہونی تھی، یہ اسے کبھی پتا نہ چلا۔ اسی لیے وہ ساری زندگی ہر صبح نئی امید کے ساتھ اٹھی۔ وادی میں صرف وہی تھی جو کبھی نہیں جانتی تھی کہ کل کیا ہوگا۔