چک 42 کے دو بھائیوں، بشیر اور نذیر، نے باپ کے مرنے کے بعد زمین تو بانٹ لی، لیکن ایک گدھے پر اڑ گئے۔ بشیر کہتا تھا کہ ابا نے گدھا مجھے دیا تھا۔ نذیر کہتا تھا کہ ابا مرنے سے پہلے میرے کان میں کہہ گئے تھے۔ جھگڑا اتنا بڑھا کہ پانچ سال میں دونوں نے گدھے کی قیمت سے دس گنا وکیلوں کو دے دیا۔
آخر معاملہ پنچایت میں آیا۔ بوڑھے سرپنچ چاچا غلام نے دونوں کی سنی، پھر حقے کا لمبا کش لیا۔ بولے: جب گواہ موجود ہے تو ہم کون ہوتے ہیں؟ گدھے کو بلاؤ۔
سارا گاؤں جمع ہو گیا۔ گدھا لایا گیا۔ چاچا نے بڑی سنجیدگی سے کہا: گدھے میاں، سچ سچ بتاؤ، تمہارا مالک کون ہے؟ گدھے نے کان ہلایا۔ مجمع ہنسنے لگا۔ بشیر چلایا کہ دیکھا، اس نے میری طرف کان ہلایا ہے۔ نذیر نے کہا، وہ مکھی تھی۔
چاچا نے فیصلہ سنایا: گدھے کو گاؤں کے باہر لے جاؤ، کل صبح چھوڑ دینا۔ جس کے گھر وہ خود جائے، وہی اس کا مالک ہوگا۔
ساری رات دونوں بھائی اپنی اپنی ترکیب سوچتے رہے۔ بشیر نے دروازے پر ہری ترین برسیم کا ڈھیر لگایا۔ نذیر نے گڑ اور چنے رکھے۔ بشیر کو پتا چلا تو اس نے راستے میں بھی چارہ بچھا دیا، اور نذیر نے اپنے گھر تک۔ اندھیرے میں چارہ بچھاتے ہوئے دونوں ایک ہی موڑ پر آمنے سامنے آ گئے۔ پانچ سال بعد پہلی بار وہ ایک دوسرے کے اتنے قریب کھڑے تھے۔ نذیر نے جھجھک کر کہا: تیری برسیم تیری زمین سے نہیں لگتی۔ پانی ٹھیک نہیں لگ رہا۔ بشیر بولا: ابا کا وہی کھال خراب ہے۔ پھر وہ وہیں بیٹھ گئے اور صبح ہو گئی۔
صبح گدھا چھوڑا گیا۔ وہ سیدھا چلتا ہوا چارے کے ڈھیروں پر سے گزرا، دونوں گھروں کو نظر انداز کیا، اور چاچا غلام کے دروازے پر جا کھڑا ہوا۔
مجمع میں سناٹا چھا گیا۔ چاچا نے حقے کا کش لے کر مسکراتے ہوئے کہا: پانچ سال سے ہر مہینے کھلا رہا ہوں۔ تم لوگ تو عدالت میں مصروف تھے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!