مری میں مس شگفتہ کو جو مکان ملا، وہ حیرت انگیز طور پر سستا تھا۔ مالک نے چابی دور سے پھینکی اور گاڑی بھگا لی۔ پہلی رات تین بجے برتن گرنے لگے۔ سیڑھیوں پر زنجیر گھسٹی۔ ایک ٹھنڈی آواز آئی: یہاں سے نکل جا۔
مس شگفتہ بتیس سال سے لڑکوں کے سرکاری اسکول میں گنتی پڑھا رہی تھیں۔ انہوں نے عینک لگائی اور باورچی خانے میں آئیں۔ ایک پرانی شیروانی میں ادھ ادھورا سا آدمی ہوا میں لٹکا ہوا تھا۔
یہ پیالی کس نے توڑی؟
بھوت گھبرا گیا۔ وہ۔۔۔ میں نے۔ مجھے ڈرانا تھا۔
کھڑے ہو کر بات کرو۔ زمین پر۔
بھوت زمین پر آ گیا۔ ایک سو دس سال میں پہلی بار اس سے یہ کہا گیا تھا۔
صبح تک حساب صاف ہو چکا تھا۔ مس شگفتہ نے کاپی پر لکھا: پیالی، ایک سو روپے۔ رات کو تین بجے کا شور، ناقابل معافی۔ پھر میٹر دیکھا۔ بتی ساری رات خود بخود جلتی بجھتی تھی۔ پانچ ہزار کا بل۔ اس کا نصف آپ کے ذمے۔
میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں مر چکا ہوں۔
یہ کوئی بہانہ نہیں۔ کیا کام آتا ہے؟
معلوم ہوا کہ بھوت 1912 میں منشی رہا تھا، اور اس کا خط بہت عمدہ تھا۔ چنانچہ اگلے مہینوں میں مس شگفتہ کی ساری کاپیاں جانچی جانے لگیں۔ لڑکے حیران تھے کہ میڈم کے نمبر راتوں رات لگتے ہیں اور جہاں غلطی ہو، وہاں سرخ روشنائی میں پرانی طرز کا نستعلیق لکھا آتا ہے: برخوردار، دوبارہ۔
ایک سال بعد مکان مالک ڈرتے ڈرتے کرایہ لینے آیا۔ اس نے دھیمی آواز میں پوچھا: بھوت نے تنگ تو نہیں کیا؟
تنگ؟ مس شگفتہ نے کہا۔ وہ پچھلے ہفتے شکایت لے کر آیا تھا۔ آپ کے سامنے والے مکان میں جو چڑیل رہتی ہے، وہ رات کو بہت اونچا گاتی ہے۔ آپ اسے نوٹس کب دے رہے ہیں؟
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!