"کمیٹی چوک سے صدر۔ کتنے؟"

"ایک سو بیس۔ اور ایک صفحہ۔"

"کیا مطلب، ایک صفحہ؟"

"پیچھے کتابیں رکھی ہیں۔ اترنے سے پہلے ایک صفحہ پڑھنا ہوگا۔ کوئی بھی۔"

"چچا، بارش ہو رہی ہے۔ آج کالج چھوڑ کر آیا ہوں۔ میرا دماغ مت خراب کریں۔"

"تو پھر بیٹھو مت۔"

عدنان بیٹھ گیا۔ بارش میں اور کوئی رکشہ تھا بھی نہیں۔ غصے میں اس نے سب سے موٹی کتاب کھینچی۔ ہیلیڈے ریزنک، فزکس، پرانا ایڈیشن۔ جہاں سے کھلی، وہاں حاشیے میں کسی نے پنسل سے سوال حل کر رکھا تھا۔

"یہ غلط ہے۔"

"کیا غلط ہے؟"

"یہ جو پنسل سے لکھا ہے۔ اس نے رگڑ کا نشان الٹا لیا ہے۔ جواب اسی لیے نکلا نہیں۔"

رکشہ سگنل پر رک گیا۔ چچا نے پہلی بار مڑ کر دیکھا۔

"الٹا نہیں لیا۔"

"الٹا لیا ہے۔ ڈھلان پر بلاک اوپر جا رہا ہے تو رگڑ نیچے کی طرف ہوگی۔"

"یہ میں نے سن اسی میں حل کیا تھا۔ مری روڈ پر سگنل پر۔"

"تو سن اسی میں غلط کیا تھا۔"

پیچھے سے ہارن بجنے لگے۔ سگنل ہرا ہو چکا تھا۔ چچا نے رکشہ کنارے لگایا، انجن بند کیا اور کتاب مانگی۔ بارش ٹین پر بجتی رہی۔ پانچ منٹ وہ حاشیے کو دیکھتے رہے۔ پھر ڈیش بورڈ سے پنسل اٹھائی، لکیر ماری، اور بڑبڑائے: اٹھائیس سال۔

"آپ نے پڑھی ہے یہ؟" عدنان نے پوچھا۔

"ایف ایس سی میں فیل ہوا تھا۔ پھر سوچا دیکھوں تو سہی کہ کیا تھا اس میں۔ تم نے کالج کیوں چھوڑا؟"

"فیس۔"

"ہوں۔" انہوں نے انجن چلایا۔ "صدر تک ایک سو بیس۔ اگلا سوال 42 ہے، وہ بھی مجھے لگتا ہے غلط ہے۔ کل نو بجے چوک پر کھڑے رہنا۔"