نور مریخ کی تیسری بستی میں پیدا ہوئی تھی۔ اس نے کبھی بادل نہیں دیکھا تھا۔ اسکول میں سب انگریزی اور چینی بولتے تھے۔ گھر میں اردو صرف اس کی دادی بولتی تھی، جو پچاس سال پہلے ساہیوال سے آئی تھیں۔
ایک دن دادی نے پرانا گانا گنگنایا اور نور نے پوچھا: دادی، ساون کیا ہوتا ہے؟
دادی کھڑکی کی طرف دیکھنے لگیں۔ باہر سرخ ریت تھی۔ بولیں: ایک موسم ہے، جب آسمان سے پانی گرتا ہے۔
نور ہنس پڑی۔ بستی میں پانی کا ایک ایک قطرہ گنا جاتا تھا۔ اس نے سرچ کیا۔ اسے بادلوں کی ویڈیو ملی، بارش کی فزکس ملی، موسم کا سارا ڈیٹا ملا۔ پھر بھی بات سمجھ نہیں آئی۔ دادی نے کہا کہ یہ ڈیٹا میں نہیں آتا۔ یہ لفظ ہی ایسا ہے۔ اس میں ماں کی پکار ہے کہ کپڑے اتار لو، اور مٹی کی خوشبو، اور پکوڑے، اور وہ جو دیر تک نہیں آیا۔
نور نے چھ مہینے اپنے حصے کا پانی بچایا۔ بستی کے اصول میں ہر فرد کو نہانے کا ایک مقررہ کوٹا ملتا تھا۔ وہ گیلے کپڑے سے گزارا کرتی۔ اس نے گودام سے ایک پرانی ٹین کی چادر مانگی اور پانی کے پائپ میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کیے۔
دادی کی سالگرہ پر اس نے انہیں وہیل چیئر پر بٹھایا اور چادر کے نیچے لے آئی۔ پھر نل کھول دیا۔
ٹپ۔ ٹپ ٹپ۔ پھر ٹین پر تیز تیز بوندوں کا شور۔
دادی نے آنکھیں بند کر لیں۔ ان کے ہونٹ ہلے۔ وہ کسی کو پکار رہی تھیں: صحن سے کپڑے اتار لے، بارش آ گئی۔ کوئی بچی بھاگ رہی تھی، پچاس سال پرانے کسی صحن میں۔
چھ مہینوں کا پانی نو منٹ میں ختم ہو گیا۔ نور نے اپنا گیلا چہرہ پونچھا۔ بستی کے لاکھوں لیٹر کے حساب میں نو منٹ کچھ نہیں تھے، لیکن اب وہ جان گئی تھی کہ ساون کیا ہوتا ہے۔ یہ وہ موسم ہے جو آنکھ بند کرنے پر آتا ہے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!