فیلڈ نوٹس، چھاچھرو کے قریب۔ یہ حصہ دفتر کے لیے نہیں ہے۔

چار بور ہو چکے ہیں۔ چاروں کھارے۔ ٹی ڈی ایس ریڈنگ اتنی ہے کہ بکری بھی منہ پھیر لیتی ہے۔ بجٹ میں ایک بور باقی ہے، اور جیپ کا ایک ٹائر۔

ایک بارہ سال کی لڑکی ہفتے بھر سے مشین کے پیچھے پھر رہی ہے۔ مومل نام ہے۔ سات کلومیٹر دور سے پانی لاتی ہے اور باقی وقت ہمیں دیکھتی ہے، جیسے ہم کوئی مزے دار غلطی کر رہے ہوں۔ آج اس نے پوچھا: آپ نیچے کیوں دیکھتی ہیں؟

میں نے کہا: پانی نیچے ہوتا ہے۔

اس نے کہا: بتاتا اوپر ہے۔

شام کو وہ مجھے ٹیلے کے پیچھے لے گئی۔ سرخ چیونٹیوں کی ایک قطار، سیدھی۔ کھپ کا ایک پودا جسے اس سوکھے میں اتنا ہرا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کی دادی کا کہنا تھا کہ ایسی جگہ کے نیچے میٹھا پانی سوتا ہے۔

مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ جیولوجی نہیں ہے۔ چیونٹی کو میری ریڈنگ سے کوئی غرض نہیں۔ ریسسٹیویٹی سروے نے بھی اس جگہ کو کوئی خاص نمبر نہیں دیا تھا، نہ اچھا نہ برا۔ رات بھر حساب لگایا۔ پانچویں بور کی جگہ کا میرے پاس اس سے بہتر کوئی جواز نہیں۔

ایک سو دس فٹ۔ پانی نکلا۔ میٹھا نہیں۔ اتنا کھارا بھی نہیں۔ ڈھور پی سکتے ہیں، آدمی ابال کر پی لے تو مر نہیں جائے گا۔ گاؤں والوں نے اس پر بھی بکرا کاٹ دیا۔

مومل نے ایک گھونٹ لیا، منہ بنایا، اور کہا: دادی نے کہا تھا میٹھا۔

رپورٹ میں لکھوں گی: مقام کا انتخاب سروے کی بنیاد پر کیا گیا۔