12 جنوری۔ سرکاری لفافہ آیا ہے۔ بی بی گلناز کے لڑکے کا، سیاچن سے۔ برف میں نام پڑھنے میں بھی وقت لگا۔ اوپر کا راستہ بند تھا، کل جاؤں گا۔
13 جنوری۔ گیا۔ اس نے چائے رکھی تھی۔ پوچھا بیٹے کا خط لائے ہو؟ میں نے کہا جی۔ لفافہ جیب میں رہا۔ واپسی میں پھسل کر گرا۔ میں بیوقوف ہوں۔
20 جنوری۔ خط لکھ دیا۔ پتا نہیں کیا لکھا۔ برف بہت ہے، دوا کھائیں۔
3 مارچ۔ تیسرا خط۔ اسے پڑھ کر سنایا تو بولی: لڑکا کمزور ہو گیا ہے کیا؟ پہلے بہت گالی دیتا تھا افسروں کو۔ اب لکھو کہ کھانا ٹھیک ملتا ہے؟
9 مارچ۔ "لکھو"؟ کیا اس نے لکھو کہا تھا؟ ساری رات سوچتا رہا۔ جواب دینے کو کہا ہوگا۔
2 اپریل۔ اگلا خط لے گیا۔ سن کر کہنے لگی: لکھائی بدل گئی ہے۔ میں نے کہا آپ کو کیا پتا بی بی، آپ کو پڑھنا نہیں آتا۔ وہ بولی: لکھائی کی آواز ہوتی ہے۔ چپ ہو گیا۔
18 جون۔ خوبانی کی پیٹی دی اور کہا لڑکے کو بھیجو۔ اب میں کیا کروں؟ گھر لے آیا۔ میٹھی تھیں۔
5 نومبر۔ چھٹی پر جا رہا ہوں۔ اسے بتایا کہ بیس دن خط نہیں آئیں گے۔ وہ بولی: ٹھیک ہے۔ لڑکے سے کہنا اماں کو بھی آرام چاہیے۔ پھر دروازہ بند کر لیا۔
سات سال کی ڈائریاں ہیں۔ میں نے آج تک نہیں پوچھا۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!