ابا جی مرے تو دکان پر بینک کے چار لاکھ تھے اور میرے پاس ان کا کھاتا۔ سچ کہوں تو میں اس رات خوش ہوا۔ ملتان کے آدھے گھرانوں کے نام تھے اس میں۔ وردی، کوٹ، شادی کے جوڑے۔ کل رقم چھ لاکھ سے اوپر۔
میں نے سوچا، قرض بھی اترے گا اور کچھ بچے گا بھی۔
پہلا دروازہ حاجی صاحب کا تھا۔ انہوں نے چائے پلائی اور کہا کہ وہ کوٹ کندھوں سے تنگ تھا، پیسے کس بات کے۔ دوسری جگہ پتا چلا کہ آدمی دبئی میں ہے۔ تیسری جگہ ایک عورت نے کہا، آپ کے والد تو کہتے تھے رہنے دو، بہن۔ میں نے کھاتا دکھایا۔ اس نے اسے بھی الٹا پکڑا، کیونکہ پڑھنا نہیں آتا تھا۔
شفیق نام کا ایک آدمی اسکول میں پڑھاتا ہے۔ سنا تھا کہ ابا جی کے بڑے احسان مند ہیں۔ میں اس امید پر گیا۔ کہنے لگے، چار سو روپے؟ کب کی بات ہے؟ انہیں یاد ہی نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے چار سو دے دیے، اور ساتھ کہا کہ آج کل وردی کی سلائی کیا ہے۔
دو مہینے میں کل اٹھائیس ہزار وصول ہوئے، ایک بکری، اور ایک چارجر جو چلتا نہیں۔ بکری کا الگ قصہ ہے۔
ایک بات اب مانتا ہوں۔ ابا جی نے رقموں کے آگے جو "وصول" لکھا تھا، وہ غلط لکھا تھا۔ کچھ وصول نہیں ہوا تھا۔ انہیں حساب نہیں آتا تھا، یا آتا تھا اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ مجھے اب تک نہیں پتا، اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔
دکان کا آدھا حصہ میں نے موبائل والے کو کرائے پر دے دیا ہے۔ کھاتا میں نے نیا لیا ہے۔ اس میں ادھار نہیں لکھتا۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!