میں گیارہ سال کا تھا جب میں نے گھر کی بجلی خود بند کرنا شروع کی۔ پہلی بار غلطی سے ہوا تھا۔ سیڑھیوں کے نیچے مین سوئچ پر کرکٹ کی گیند لگی، سب کچھ بند، اور اس رات پورا گھر چھت پر لالٹین کے گرد بیٹھا رہا۔ دادا جان نے بتایا کہ ان کے زمانے میں لاہور میں ایک ہاتھی چھوٹ گیا تھا۔ ابو نے کہا یہ جھوٹ ہے۔ دادا جان نے کہا تم تب پیدا نہیں ہوئے تھے۔

اگلی جمعرات میں نے گیند کے بغیر کر دیا۔

ابو نے لیسکو میں شکایت لکھوائی۔ پھر ایک اور۔ الیکٹریشن آیا تو میٹر کھول کر دیر تک سر کھجاتا رہا اور چھ سو روپے لے گیا۔

تیسری جمعرات مغرب کے بعد میں سیڑھیوں کے نیچے گیا تو امی وہاں کھڑی تھیں، ہاتھ میں مٹر کی پلیٹ لیے۔ میرا ہاتھ سوئچ پر تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

"آٹھ بجے کے بعد،" انہوں نے کہا۔

"جی؟"

"میرا ڈرامہ آٹھ بجے ختم ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کی تو تیری خیر نہیں۔"

وہ مٹر چھیلتی ہوئی چلی گئیں۔

یہ سلسلہ کوئی ڈیڑھ سال چلا۔ پھر ابو نے یو پی ایس لگوا لیا اور بات ختم ہو گئی۔ ہاتھی کا قصہ میں نے بعد میں پرانے اخباروں میں ڈھونڈا۔ مجھے نہیں ملا۔