سو روپے کا نوٹ تھا، کافی پرانا۔ کنارے پر نیلی روشنائی میں لکھا تھا: جس کے ہاتھ آئے، اپنی ماں کو فون کر لے۔
نیچے کالے بال پین سے کسی نے لکھا: کر لیا۔ پیسے مانگ رہی تھی۔
اس کے نیچے پنسل سے: اماں 2016 میں گزر گئیں، آپ لوگ شوق سے کریں۔
پھر سرخ قلم، بڑی لکھائی، شاید کسی دکان دار کی: یہ نوٹ کھوٹا نہیں ہے، چل جائے گا۔
پھر کسی بچے کی لکھائی: میری امی میرے ساتھ ہی رہتی ہے۔
ایک جگہ کسی نے انگریزی میں فون نمبر لکھ کر لکھا تھا: رشتے کے لیے رابطہ کریں۔ اس پر کسی اور نے لکیر پھیر دی تھی اور ساتھ لکھا تھا: شرم کرو۔
پیچھے کی طرف، قائد کے مقبرے کے نیچے، بہت چھوٹے حروف میں: تین سال بعد کیا۔ وہ بولیں کھانا کھایا؟ بس۔
کراچی کی اس سبزی منڈی میں یہ نوٹ عمران کو بقایا میں ملا تھا۔ اس نے پورا پڑھا، گاہک کو انتظار کروایا، پھر اپنے قلم سے کونے میں کچھ لکھنے لگا، پھر رک گیا۔ جگہ ختم ہو چکی تھی۔
وہ نوٹ ڈیڑھ مہینے بعد نیشنل بینک کی ایک شاخ میں پہنچا۔ کیشیئر نے اسے روشنی میں دیکھا، کہا کہ اس پر بہت لکھا ہوا ہے، اور گندے نوٹوں کی گڈی میں رکھ دیا۔ ایسی گڈیاں ہر مہینے کاٹ دی جاتی ہیں۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!