محکمے کا خط آیا تو کرامت نے اسے چائے کی پیالی کے نیچے رکھ دیا۔ اکتیس تاریخ کے بعد ڈھوک مراد پر کوئی ریل نہیں رکے گی۔ خط میں اور کچھ پڑھنے کو تھا بھی نہیں۔

آخری دن خالہ زینب حسبِ معمول نو بجے آئیں، مگر آج وہ کپڑے کی ایک بوری گھسیٹ رہی تھیں۔ بوری کھڑکی کے نیچے رکھ کر انہوں نے سانس درست کی۔

"یہ واپس لو۔"

بوری میں ملتان کے ٹکٹ تھے۔ تیس سال کے، دھاگوں سے بندھے ہوئے۔ ان کا بیٹا ملتان گیا تھا، یہ پورے قصبے کو معلوم تھا، اور اسی لیے کوئی اس کا ذکر نہیں کرتا تھا۔

"خالہ، استعمال نہیں ہوئے، پر واپس بھی نہیں ہو سکتے۔"

"کیوں نہیں ہو سکتے؟ میں تو بیٹھی ہی نہیں۔ ریل تم بند کر رہے ہو، میں نہیں۔"

کرامت نے قاعدے کی کتاب نکالی۔ چالیس سال کی نوکری میں یہ کتاب اس نے شاید تین بار کھولی تھی۔ پہلے ٹکٹ پر کرایہ ساڑھے تین روپے تھا، آخری پر تین سو بیس۔ دونوں نے مل کر حساب لگایا۔ بیچ میں خالہ نے دو جگہ غلطی پکڑی۔ بارہ بجے تک رقم سوا سات لاکھ کے قریب نکلی، اور دونوں کچھ دیر اسے دیکھتے رہے۔

فارم میں ایک خانہ تھا: سفر نہ کرنے کی وجہ۔

کرامت کا قلم وہاں رک گیا۔ اس نے کھڑکی کی سلاخوں میں سے ان کی طرف دیکھا۔ خالہ نے بھی اسے دیکھا۔ باہر پٹری پر دھوپ پڑی تھی۔

"لکھو،" انہوں نے کہا، "ریل لیٹ تھی۔"

اس نے لکھ دیا۔ فارم آج بھی ملتان ڈویژن میں زیرِ غور ہے۔