بغداد شہر میں ایک لکڑہارا رہتا تھا ۔۔جو بہت ہی غریب تھا ۔۔ وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا گھر بار چلاتا تھا ۔۔۔


ایک دن لکڑہارا لکڑیاں بیچنے بازار گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک نجومی بھی بازار میں دُکان لگائے بیٹھا ہے۔۔ اور لوگوں کو انکے ہاتھ دیکھ کر قسمت کا حال بتارہا ہے۔۔ پہلے تو لکڑہارے نے اسکی طرف کوئی توجہ نہ کی ۔۔ لیکن جب اُس نے دیکھا کہ لوگ اُس کے علمِ نجوم سے بہت متاثر ہیں تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی اپنی قسمت کا حال جانوں۔۔۔


لکڑیاں بیچ کر لکڑہارا سیدھا نجومی کی دکان پر گیا۔۔۔اور اپنا ہاتھ نجومی کے آگے کر دیا۔۔۔ نجومی نے اپنا موٹا شیشہ اُٹھا یا اور اسکے ہاتھ کی لکیروں کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔پھر نجومی نے بڑے غور سے لکڑہارے کو دیکھا اور بولا ۔۔۔ میاں تمہاری تو قسمت بدلنے والی ہے۔۔ تمھارے ہاں ایک بیٹا پیدا ہو گا ۔ وہ بہت ہی عقلمند اور سمجھدار ہو گا۔۔۔وہ تمھاری کایا پلٹ دے گا۔۔۔ بس تم صبر سے کام لینا۔۔اور نا شکری نہ کرنا۔۔۔


لکڑہارا یہ سُن کر بہت خوش ہوا ۔۔۔ اُس نے نجومی کو اُسکی قیمت ادا کی اور گھر چلا آیا۔۔۔


کچھ عرصے کے بعد لکڑہارے کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اُسکی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔۔ ۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔۔۔ اسے نجومی کی بات یاد تھی ۔۔۔ کہ اسکا بیٹا بہت خوش قسمت ہو گا۔۔۔ لکڑہارے نے اسکا نام بختاور رکھا ۔۔۔


لکڑہارا بختاور سے بہت محبت کرتا تھا ۔۔ لکڑہارا اپنے بیٹے کے ہر ناز نخرے اُٹھاتا ۔۔ اُسکی ہر خوشی پوری کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔ مگر اسکے حالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی ۔۔۔ دو سال بعد لکڑہارے کے ہاں ایک اور بیٹا پیدا ہوا ۔۔اس نے دوسرے بیٹے کا نام آفتاب رکھا۔۔۔ اسے لگا شاید اب کی بار اسکے گھر کے حالات بدل جائیں گے ۔۔لیکن کچھ نہ بدلا۔۔


کچھ عرصے بعد لکڑہارے کے ہاں تیسرا بیٹا پیدا ہوا ۔۔۔ لیکن اب کی بار لکڑہارا خوش نہ تھا کیونکہ اسکا تیسرا بیٹا بڑے دونوں بیٹوں سے کمزور اور پیدائشی معذور پیدا ہوا تھا ۔۔ اُسکا ایک بازو نہیں تھا ۔۔۔


لکڑہارا سوچنے لگا کہ یہ خاک قسمت کا دھنی ہو گا۔۔جو خود بدقسمتی سے معذور پیدا ہوا ہے وہ ہماری قسمت کیا بدلے گا۔۔۔اسے نجومی کی سب باتیں جھوٹ لگنے لگیں۔۔۔


لکڑہارے نے اسکا نام رکھنا بھی پسند نہ کیا اوراپنی بیوی سے بولا ۔۔تم خودہی اسکا کوئی نام رکھ لو۔۔۔


لکڑہارے کی بیوی نے اسکا نام سکندر رکھا۔۔۔۔


بچے بڑے ہوئے تو گھر کے اخراجات بھی بڑھنے لگے۔۔۔لکڑہارا بختاور اور آفتاب کے لئیے چیزیں لے آتا اور سکندر حسرت سے دونوں کو دیکھتا رہتا ۔۔۔ لکڑہارے کی بیوی لکڑہارے کو بہت سمجھاتی مگر وہ کچھ نہ سمجھتا۔۔۔لکڑہارا سارا دن لکڑیاں جمع کر کے بیچتا لیکن پھر بھی گھر کا خرچ پورا نا ہو پاتا۔۔۔


لکڑہارے کے بیٹے تھوڑے بڑے ہوئے تو باپ کے ساتھ جنگل میں جا کر اس کا ہاتھ بٹانے لگے ۔۔۔ بختاور اور آفتاب کافی لکڑیاں جمع کر لیتے تھے مگر سکندر سارا دن پرندوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ۔۔۔ایک دن اُسےجنگل میں ایک زخمی طوطا ملا وہ اُس طوطے کو اُٹھا کر گھر لے آیا۔۔طوطے کی مرہم پٹی کی اور اسے اپنے پاس ہی رکھ لیا۔۔۔سکندر کو وہ طوطا بہت ہی پیارا لگا۔۔۔اُس نے طوطے کا نام مَنو رکھ دیا۔۔۔


مَنو ایک بولنے والا طوطا تھا ۔۔۔جب سے سکندر کو مَنو ملا تھا سکندر بہت خوش رہنے لگا تھا ۔۔ اسے باتیں کرنے کے لئیے ایک ساتھی مل گیا تھا۔۔۔ورنہ بختاور اور آفتاب تو اسے اپنے ساتھ کھیلنے بھی نہیں دیتے تھے۔۔۔


گھر کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے تھے۔۔۔ لکڑہارے کی بیوی بیمار رہنے لگی تھی۔۔۔ ایک دن وہ بیماری سے لڑتی لڑتی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔۔۔


بیوی کی موت کے بعد گھر ،بچوں اور کام کو ایک ساتھ سنبھالنا لکڑہارے کے لئیے بہت مشکل ہو گیا تھا۔۔۔وہ اس سب کا ذمہ دار سکندر کو ٹھرانے لگا۔۔۔


لکڑہارے کو لگنے لگا کہ یہ سب سکندر کی بدقسمتی ہے جو اُس کے پورے کُنبے کو بھی لے ڈوبے گی۔۔۔


ماں کی موت کے بعدسکندر بہت اُداس رہنے لگا تھا ۔۔۔ایک دن لکڑہارا اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ جنگل میں لکڑیاں جمع کر رہا تھا۔۔۔لکڑیاں جمع کرتے ہوئے وہ جب تھک گیا تو سستانے کے لئیے ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا ۔۔۔اسکے تینوں بیٹے لکڑیاں جمع کر رہے تھے ۔۔وہ بہت غور سے اپنے بیٹوں کو دیکھنے لگا۔۔۔ جہاں بختاور اور آفتاب پانچ لکڑیاں جمع کرتے وہاں سکندر صرف ایک لکڑی ہی جمع کر پاتا ۔۔۔ سکندر اب چودہ سال کا تھا مگر اعصابی طور پر وہ اپنے دونوں بھائیوں اور اپنی عمر کے بچوں سے بہت کمزور تھا۔۔۔


سردی اور گرمی دونوں ہی بہت جلد اس پر اثر انداز ہوتے تھے۔۔۔ شام ہوئی تو تھوڑی سردی بڑھنے لگی۔۔۔ سکندر نے فوراً اپنی چادر کو اپنے گِرد لپیٹ لیا۔۔۔


لکڑہارا مسلسل سکندر کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔وہ سوچنے لگا کہ اگر سکندر نہ ہوتا تو ہمارے اخراجات قدرے کم ہوتے۔۔۔شاید ہم بھی خوشحال زندگی گزار رہے ہوتے ۔۔اسکی نحوست کی وجہ سے ہم کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔۔۔ مجھے اس نحوست کو خود سے علیحدہ کرنا ہی ہو گا۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ اسکا منحوس سایہ میرے باقی بچوں کی زندگیوں کو بھی خراب کر دے۔۔۔


یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے بچوں کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اُس نے بختاور اورآفتاب کو گدھے پر سوار کیا ۔۔اور سکندر سے کہنے لگا کہ بیٹا تم ابھی یہاں بیٹھو ۔۔ہمارا گدھا آج بیمار ہے وہ تم تینوں کو بٹھا کر نہیں لے جا سکے گا۔۔۔ راستہ بھی بہت لمبا ہے تم میرے ساتھ پیدل نہیں چل سکو گے۔۔۔ تم یہاں تھوڑی دیر میرا انتظار کرو میں اِن دونوں کو گھر چھوڑ کر تمھیں لینے آ جاؤں گا۔۔۔


سکندر یہ سُن کر ڈر گیا تو لکڑہارا بولا ۔۔۔ارے بیٹا ڈرنے کی کیا بات ہے؟۔۔۔ یہ مَنو بھی تو تمھارے ساتھ ہے نہ ۔۔۔میں بس یوں گیا اور یوں آیا۔۔۔سکند ر نے ایک نظر اپنے طوطے کو دیکھا اور باپ کے کہنے پر چادر اپنے گِرد لپیٹ کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔۔۔لکڑہارا اپنے دونوں بیٹوں کو لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔


سکندر سردی اور خوف سے کانپ رہا تھا۔۔ باپ کو گئے ہوئے جب کافی دیر ہو گئی اور اندھیرا بھی بڑھنے لگاتو سکندر کو فکر ہونے لگی۔۔ مَنو بابا کب آئیں گے؟ ۔ ۔۔سکندر نے اپنے طوطے کو مخاطب کیا۔۔۔


پتہ نہیں کب آئیں گے۔۔مَنو اسکے کندھے سے اُڑ کر زمین پر اسکے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔۔۔


مَنو تجھے راستے کا پتہ ہے کیا؟ تو تو اسی جنگل کا رہنے والا ہے نہ ؟۔۔۔سکند ر نے طوطے سے پوچھا


مَنو جانتا تھا کہ سکندر بہت کمزور ہے اِسی لیے وہ سکندر سے بولا کہ ۔۔۔ میں تو راستہ جانتا ہوں لیکن کیا تم اتنا لمبا سفر پیدل کر لو گے ؟


ہاں میں کر لوں گا تم مجھے بس راستہ بتاؤ ۔۔۔ سکندر اب مزید وہاں رکنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔


مَنو اب اُس طرف اُڑنے لگا جس طرف سکندر کا باپ گیا تھا۔۔۔ سکندر اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔۔۔


اندھیرے میں اسے کچھ بھی صحیح سے نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔وہ بس ناک کی سیدھ میں منو کے پیچھے چلتا جا رہا تھا کہ اچانک اسے بہت ذیادہ شور سُنائی دینے لگا۔۔ ۔


وہ اُس سمت چلنے لگا جہاں سے آواز آ رہی تھی۔۔۔ اس نے تھوڑا آگے جا کر دیکھا تو اسے روشنی بھی دکھائی دینے لگی۔۔۔ اُس نے دیکھا کہ بہت سے جنگلی آگ کے گِرد دائرہ بنا کر گھوم رہے ہیں اور اپنی زبان میں اونچی اونچی کچھ بول رہے ہیں ۔۔۔ انکے پاس ہی ایک موٹا جنگلی ،تخت نما کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ دِکھنے میں وہ انکا سردار لگ رہا تھا۔۔۔۔


سکندر ایک درخت کی اُوٹ میں کھڑا ہو کر انکو دور سے دیکھنے لگا۔۔۔پھر ایک جنگلی نے ایک بڑا سا لوہے کا قرنا اُٹھا کر مُنہ کو لگایا اور اتنی زور سے بجایا کہ پورا جنگل گونج اُٹھا ۔۔ اس کی آواز سُنتے ہی دو جنگلی غار کے اندر چلے گئے اور جب واپس آئے تو انہوں نے ایک آدمی کو اپنے بازوؤں میں جکڑا ہوا تھا ۔۔ وہ آدمی ان جنگلیوں سے خود کو چھڑوانے کی ناکام کوششیں کر رہا تھا ۔۔۔ انہوں نے اس آدمی کو ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا۔۔۔


سکندر نے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ جس آدمی کو انہوں نے درخت کے ساتھ باندھا ہے وہ اسکا باپ ہے۔۔۔


مَنو ! یہ تو بابا ہے۔۔۔۔ یہ ان جنگلیوں کے پاس کیسے پھنس گئے۔۔سکندر نے لرزتی آواز میں منو سے پوچھا۔۔


یہ جنگلیوں کا قبیلہ ہے ۔۔ ہر سال یہ اپنے دیوتا کو ایک انسان کی بَلی چڑھاتے ہیں ۔۔تمھارے بابا کو انہوں نے راستے سے پکڑ لیا ہو گا۔۔۔


لیکن بابا تو بھائیوں کے ساتھ گئے تھے۔۔۔ وہ تو نظر نہیں آ رہے ہیں ۔۔۔ سکندر نے طوطے سے پوچھا۔۔


کیا پتہ تمھارے بھائی جان بچا کر بھاگ گئے ہوں اور تمھارے بابا تو پیدل چل رہے تھے اسی لئیے وہ پکڑے گئے ہوں گے۔۔۔طوطے نے گول گول آنکھیں گھماتے ہوئے کہا


نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ بھائی بابا کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہیں ۔۔۔ وہ بھی ضرور کسی مصیبت میں پھنس گئے ہوں گے۔۔ سکندر کو اپنے بھائیوں پہ بھروسہ تھا ۔۔


اب ہم بابا کو کیسے چھڑوائیں گے۔۔۔ سکندر نے پریشانی سے پوچھا۔۔


انکو یہاں سے بچانا بہت مشکل ہے۔۔۔ اگر ہم انہیں بچانے کے لئیے جائیں گے تو وہ لوگ ہمیں بھی مار دیں گے۔۔۔میرا تو خیال ہے یہ سب بھول جاؤ اور ہم گھر چلتے ہیں ۔۔۔مَنو نے جنگلیوں کے خوفناک چہرے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔


ایسا نہیں ہو سکتا میں بابا کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔۔۔ میں انہیں لیے بغیر نہیں جاؤں گا۔۔ میری مدد کرو مَنو ۔۔۔ سکندر بے بس کھڑا اپنے بابا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔


منو آنکھیں بڑی کر کے سکندر کو دیکھنے لگا اور بولا میں کیا کر سکتا ہوں ۔۔۔ تم بھی کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔ بہتر یہی ہو گا کہ ہم اپنا راستہ ناپیں ۔۔۔


مَنو اس موٹے جنگلی کی کوئی تو کمزوری ہو گی نہ۔۔۔ کیا پتہ ہم بابا کو بچا ہی لیں ۔۔۔ سکندر اپنی بات پر اڑا ہوا تھا ۔۔


منو نے گردن موڑ کر اسے ایسے دیکھا جیسے اسکی عقل پر افسوس کر رہا ہو۔۔۔


اِس موٹے کی ایک ہی کمزوری ہے اور وہ ہے تعریف سُننا ۔۔۔مگر مجھے نہیں لگتا کہ ہم کچھ کر سکیں گے۔۔۔منو ابھی بتا ہی رہا تھا کہ سکندرنے مسکراتے ہوئے مَنو کو دیکھا اور اس طرف چل پڑا جہاں جنگلیوں کا ڈیرہ تھا ۔۔۔


ان جنگلیوں میں سے ایک جنگلی نے لکڑہارے کو درخت سے کھولا اورگھسیٹتا ہوا ایک تختے کے پاس لے گیا جہاں ایک دوسرا جنگلی پہلے سے ہی تلوار لیے کھڑا تھا ۔۔۔ پھر دونوں جنگلیوں نے مل کر لکڑہارے کو تختے پر لٹایا اور رسیوں سے باندھ دیا۔۔۔


لکڑہارا خود کو چھڑوانے کی ناکام کوششیں کرتا رہا۔۔۔۔


سکندر۔۔۔سکندر ۔۔۔مت جاؤ ۔۔ سکندر ۔۔ منو آوازیں دیتا رہا لیکن سکندر نہ رُکا۔۔۔


سکندر سیدھا سردار کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اور دوزانو ہو کر سردار کو سلام کیا ۔۔۔


سردار ، سکندر کو اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔ کیونکہ آج تک اس کے سامنے کوئی انسان اتنے پُر اعتماد انداز سے کھڑا نہیں ہوا تھا ۔۔۔


سردار نے باقی سب جنگلیوں کو آواز دے کر متوجہ کیا جو اپنی ہی مستی میں آگ کے گِرد ناچ رہے تھے۔۔۔


دو جنگلی جو تختے کے پاس کھڑے تھے وہ بھی متوجہ ہو ئے۔۔۔


سردار ۔۔۔سردار ۔۔ میرا مسئلہ حل کر دیں ۔۔۔ میں نے سُنا ہے اس جنگل میں آپ سے بڑھ کر عقل مند کوئی نہیں ہے۔۔ اور آپ ہی ان سب کے کرتا دھرتا ہیں ۔۔۔ آپ سا بہادر انسان میں نے نہیں دیکھا ۔۔۔آپ ہی میرا مسئلہ حل کر سکتے ہیں ۔۔۔سکندر روتا ہوا سردار کے پیروں میں گِر گیا۔۔۔


منو کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سکندر کیا کرنا چاہ رہا ہے۔۔۔ اُسے سکندر کے پاگل ہونے کا گمان ہونے لگا تھا۔۔۔


سردار نے اِتراتے ہوئے اپنی گردن اکڑا کر باقی جنگلیوں کو دیکھا۔۔۔ جو بڑے رشک سے اپنے سردار کو دیکھ رہے تھے۔۔۔


سردار اپنی کرسی سے اُٹھا اور سکندر کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا اور بولا ۔۔۔ کہو آدم کیا مسئلہ ہے تمھارا۔۔۔


سردار میں جنگل کے پاس ایک گاؤں میں رہتا ہوں ۔۔۔ہمارے گاؤں میں ہر سال میلہ لگتا ہے ۔۔۔ میلے پر ہمارے گاؤں کا سردار بھیڑوں کی قربانی دیتا ہے۔۔۔ ہر سال سردار مجھ سے بھیڑیں لیتا تھا ۔۔۔ اس سال سردار نے مجھ سے بھیڑیں لینے کی بجائے اس طوطے کے مالک سے بھیڑیں لے لی ہیں ۔۔۔ سکندر نے مَنو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ جو سردار کی کرسی کی ٹیک پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔


جنگلی سردار نے گردن گھما کر مَنو کی طرف دیکھا ۔۔۔ مَنو کا تو جیسے سانس ہی رُک گیا۔۔۔


لکڑہارا بھی یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔


دیکھو نہ سردار ! اِس طوطے کے مالک کی ساری بھیڑیں بوڑھی اور بیمار ہیں اور میری ساری بھیڑیں تندرست اور جوان ہیں ۔۔آپ تو اتنے سمجھدار ہیں آپ ہی بتائیں قربانی کے لئیے کوئی بوڑھے اور بیمار جانور دیتا ہے کیا؟ ۔۔سکندر نے سوالیہ نظروں سے سردار کو دیکھا۔۔


سردار نے ایک نظر تختے پر لیٹے بوڑھے لکڑہارے کو دیکھا اور پھر سکندر کی طرف مُنہ کر کے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔سکندر دل میں خوش ہوا کیونکہ سردار کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ جو بات وہ سردار کو بتانا چاہتا ہے وہ سردار کو سمجھ آنے لگی ہے۔۔


۔ بس اسی بات پر میری اور اسکے مالک کی بحث ہو گئی۔۔۔ ہمارا سردار تو ناقص ولعقل ہے وہ تو فیصلہ ہی نہیں کر پایا ۔۔۔ اسی لیے میں نے کہا کسی عقل مند اور دانشور سے فیصلہ کرواتے ہیں ۔۔۔۔ پھر میں نے سُنا کہ اس قبیلے کا سردار بہت سمجھدار ہے ۔۔۔۔ تو میں نے کہا کیوں نہ آپ سے ہی فیصلہ کروایا جائے ۔۔۔ تب سے میں اور یہ آپکو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔۔۔ سکندر نے پھر سے مَنو کی طرف اِشارہ کیا ۔۔۔


میں تو آپکو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا کہ آپ ہی اس قبیلے کے سردار ہیں ۔۔۔ اب آپ ہی بتائیں میں ٹھیک ہوں کہ اسکا مالک؟۔۔۔


سکندر نے مَنو کو آنکھ ماری اور پھر سے سردار کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔


منو بھی ساری بات سمجھ گیا اور سر جھکا کر سردار کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔


سردار نے ایک طائرانہ نگاہ اپنے باقی جنگلیوں پر ڈالی اور بڑے سلیقے سے اپنے کرسی نما تخت پر بیٹھ گیا۔۔۔ کھنکار کر اپنے گلے کو صاف کیا اور بولا۔۔۔اے آدم تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔ قربانی کے لئیے بیمار اور بوڑھے جانور نہیں ہونے چاہیے ہیں ۔۔۔ اسکا مالک غلط کہتا ہے ۔۔سردار نے غصے سے مَنو کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ مَنو ڈر کے ذرا سا پیچھے ہوا۔۔۔


کیا عمدہ فیصلہ کیا ہے آپ نے۔۔۔ ایسا فیصلہ صرف آپ جیسا عقلمند انسان ہی کر سکتا ہے۔۔۔ سکندر نے سردار کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کر دئیے ۔۔۔


سردار نے گردن کو مزید اکڑا لیا۔۔۔ باقی سب جنگلی بھی واہ واہ کرنے لگے۔۔۔


یہ بوڑھا بیمار شخص کون ہے؟ سکندر نے لکڑہارے کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔


آپ اِسکی بَلی دینے لگے ہیں؟


نہیں بلکل نہیں ۔۔۔سردار نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔


سکندر نے گردن گھما کر باقی جنگلیوں کو دیکھا تو اُنہوں نے بھی بیک وقت نفی میں سر ہلایا۔۔۔


دو جنگلی جو لکڑی کے تختے کے پاس کھڑے تھے وہ بھی وہاں سے ہٹ کے باقی جنگٔلیوں کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔


وہی میں کہوں آپ جیسا عظیم سردار ایسی بیوقوفی کیسے کر سکتا ہے۔۔۔ سکندر سردار کی تعریفیں کرتا ہوا لکڑہارے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔


لکڑی کے تختے کے پاس پہنچ کر سکندر نے لکڑہارے کا رسیوں میں جکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔۔۔ لکڑہارے نے نم آنکھوں سے سکندر کو دیکھا ۔۔


آپ یہاں کیسے آ گئے بابا اور بھائی کہاں ہیں ؟۔سکندر نے اس کے پاس ہو کر سرگوشی میں کہا۔۔۔


وہ دونوں گدھے پر سوار تھے ۔۔ جنگلیوں کو دیکھتے ہی وہ مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے۔۔لکڑہارا کہتے ہوئے رو پڑا۔۔۔


سکندر اُس تختے کے گِرد چکر کاٹنے لگا جس پر لکڑہارے کو باندھا تھا ۔۔وہ ہونٹ ہلائے بغیر بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ تھوڑا دور کھڑے جنگلیوں کو یہ نہ لگے کہ وہ لکڑہارے کو جانتا ہے۔۔۔


تم میں اتنی ہمت کہاں سے آ گئی ؟لکڑہارے نے سکندر کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا


ہمت نہیں آئی ہے بابا بس آپکو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ہوں ۔۔۔سکندر کی آنکھوں میں بھی آنسو آنے لگے


۔لکڑہارے کی آنکھوں میں دُکھ اور پچھتاوا تھا جسے سکندر نہیں سمجھ پا رہا تھا ۔۔۔ سکندر نے ہاتھ بڑھا کر لکڑہارے کے آنسو صاف کیے۔۔۔


اُس نے جذبات میں آ کر جلدی سے لکڑہارے کے ہاتھ کھولنے شروع کر دئیے ۔۔۔ ہاتھ کھولتے ہی وہ اسے وہاں سے بھگا کر لے جانا چاہتا تھا ۔۔۔ جیسے ہی وہ مُڑا جنگلی سردار اُسکے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔ سردار خونخوار نظروں سے اُسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ سکندر ڈر کے دو قدم پیچھے ہٹا ۔۔۔ سارے جنگلی ان دونوں کے گِرد گھیرا تنگ کرنے لگے۔۔۔


سکندر اور لکڑہارا خوف سے پسینے میں بھیگ گئے تھے۔۔۔۔منو کی بھی سانس خشک ہونے لگی۔۔۔


ووو،،،وووہ،،م م م،،،م میں کہہ رہا تھا کہ اِس بوڑھے کی قربانی تو دینی نہیں ہے تو وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ ۔۔۔ آپکو تو اس سے کہیں اچھا شکار مِل سکتا ہے۔۔سکندر نے لڑکھڑاتے ہوئے کہا۔۔۔


سردار! اِس بُڈھے کو چھوڑ دیا تو اِس وقت ہمیں کوئی بھی نہیں ملے گا ۔۔۔اور آج قربانی تو دینی ہی پڑے گی۔۔۔ ورنہ ہمارا دیوتا ہم سے ناراض ہو جائے گا۔۔۔اُن میں سے ایک جنگلی نے سردار کو مخاطب کیا۔۔۔


ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو قربانی تو دینی پڑے گی۔۔۔ سردار نے لکڑہارے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔


جنگلی سردار نے اشارے سے اُن دو نوں جنگلیوں کو لکڑہارے کے پاس بلایا جو پہلے وہاں کھڑے ہوئے تھے۔۔


لیکن تمھارا دیوتا تم لوگوں کی قربانی قبول نہیں کرے گا۔۔۔ سکندر نے باآوازِ بلند کہا۔


اس نے ابھی یہ کہا ہی تھا کہ جنگلی سردار کا مُکا اسکے جبڑے پر ایسا پڑا کہ وہ لڑکھتا ہوا دور جا گِرا۔۔ وہ کتنی ہی دیر سنمبھل ہی نہ سکا۔۔۔


تم کون ہوتے ہو ہمارے معملات میں دخل دینے والے۔۔۔ ہمارا دیوتا ہم سے ضرور خوش ہو گا۔۔اور تم بھی دیکھو گے ۔۔۔سردار یہ کہہ کر آگے بڑھا اور لکڑہارے کو پکڑ کر دوبارہ تختے پر پھینک دیا۔۔ دو جنگلی آگے بڑھ کر اُسے پھر سے باندھنے لگ گئے۔۔۔


سکندر انہیں روکنے کے لئیے آگے بڑھا ہی تھا کہ جنگلیوں نے اُسے بھی پکڑ کر ایک درخت سے باندھ دیا۔۔۔


مَنو بھی ڈر گیا تھا ۔۔۔


تم لوگ غلط کر رہے ہو ۔۔میری بات مانو ۔۔ اسے جانے دو ۔۔۔ تمھیں اس بوڑھے سے بہتر شکار مل سکتا ہے۔۔۔ اِس سے تو تمھارا دیوتا خوش نہیں ہونے والا۔۔۔ سکندر چیخ چیخ کر بہت دلیلیں دے رہا تھا لیکن وہاں کوئی بھی اُس کی بات سُننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔


وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔ایک بار اُسکی بات تو سُن لو۔۔۔ مَنو اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتے ہوئے سردار کے سامنے اُڑنے لگا۔۔۔


سردار نے مَنو کو گردن سے پکڑ کر اس زور سے پھینکا کہ وہ سنبھل ہی نہ سکا اور ایک درخت کے ساتھ لگ کر زمین پر جا گِرا۔۔۔


مَنوووو! سکندر نے چیختے ہوئے منو کو پکارا۔۔۔ اُسے لگا کہ مَنو مر گیا ہے۔۔۔ اس نے خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کی ۔۔ سکندر خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ وہ اب رونے لگا تھا ۔۔۔


مَنو نے اپنے پروں کو تھوڑا سا ہلایا جیسے اُڑنے کی کوشش کر رہا ہو ۔۔۔مَنو کو اُڑتا ہوا دیکھ کر سکندر کو لگا جیسے اُس کی جان میں جان آ گئی ہو۔۔۔


جنگلی سردار نے ایک جنگلی کو اشارہ کیا تو وہ لوہے کا قرنا مُنہ سے لگا کر زور سے بجانے لگا۔۔۔ اُن میں سے ایک جنگلی نے آگے بڑھ کر تلوار سردار کے ہاتھ میں پکڑا دی ۔۔۔۔


سردار نے آنکھیں بند کر کے منہ میں کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر جیسے ہی سردار نے تلوار کو ہوا میں بلند کیا ۔۔سکندر زور زور سے چیخنے لگا۔۔۔ چھوڑ دو اُنہیں خدا کے لئیے چھوڑ دو ۔۔۔ تم لوگوں کو قربانی کے لئیے انسان چاہیے ہے نہ۔۔۔ تو تم مجھے قربان کر دو ۔۔


سکندر کا یہ کہنا تھا کہ سردار نے اپنا ہاتھ وہیں روک لیا ۔۔۔ تختے پر لیٹے ہوئے لکڑہارے نے بھی اپنے بیٹے کو دیکھا جسے وہ خود موت کے مُنہ میں چھوڑ کر آ گیا تھا وہی بیٹا اس کے لئیے اپنی جان قربان کرنے کی بات کر رہا تھا ۔۔۔


یہ سُن کر مَنو جو کب سے خاموش تھا ۔۔۔ اُڑتا ہوا سکندر کے سامنے آ گیا۔۔۔ تم پاگل ہو گئے ہو کیا ؟۔۔۔


تم جانتے ہو جو تم کہہ رہے ہو اُسکا مطلب کیا ہے؟۔۔۔یہ لوگ تمہیں مار دیں گے ۔۔۔


میں سچ کہہ رہا ہوں تم لوگ مجھے قربان کر دو۔۔۔ اُنہیں جانے دو ۔۔وہ تو بوڑھا ہے ۔۔اور کمزور بھی ہے میں تو جوان ہوں ۔۔۔ تمھارا دیوتا بھی خوش ہو جائے گا۔۔۔۔ سکندر مَنو کو نظر انداز کرتے ہوئے رو رو کر ان کی مِنتیں کرنے لگا۔۔۔


سردار نے تلوار نیچے کر لی ۔۔۔


سردار میرے خیال سے لڑکے کی بات میں دم تو ہے ۔۔۔پاس کھڑے جنگلی نے سردار کے کان میں کہا۔۔


سردار کو بھی لگا کہ لڑکا ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔ جاؤ اسے کھول کر یہاں لاؤ ۔۔سردار نے ایک جنگلی کو کہا۔۔


تو وہ سکندر کو درخت سے کھول کر سردار کے سامنے لے آیا۔۔۔


تم تو خود اتنے کمزور ہو۔۔۔سردار نے بغور سکندر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔۔۔


میں تو بس دِکھنے میں کمزور لگ رہا ہوں ۔۔۔ مگر میں اُس بوڑھے شخص سے تو جوان ہوں نہ۔۔۔ سکندر نے اپنی دلیلوں سے سردار کو قائل کرنے کی کوشش کی۔۔۔ جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا۔۔۔


باچھو ! اُس بوڑھے کو کھولو اور اِس لڑکے کو وہاں باندھ دو ۔۔۔ سردار نے اپنے پاس کھڑے جنگلی کو کہا۔۔۔


وہ سکندر کو پکڑنے ہی لگا تھا کہ سکندر بول پڑا ۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔ تم لوگ اُس بوڑھے شخص کے جانے کے بعد میری قربانی دو گے۔۔۔


مجھے منظور ہے سردار نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔


باچھو نے لکڑہارے کو کھول دیا اور اُسے جانے کو کہا۔۔۔لکڑہارا تو جیسے سکتے میں تھا ۔۔۔ وہ وہاں سے جانے کی بجائے وہیں کھڑا ہو گیا۔۔ سکندر آگے بڑھ کر لکڑہارے کے گلے لگ گیا۔۔۔۔آپ چلے جائیں بابا ۔۔بھائی آپکا بہت خیال رکھیں گے۔ میری پرواہ نہ کریں ۔۔۔ بس میرے لئیے آسان موت کی دُعا کر دیجیے گا۔۔۔


سکندر کی بات سُن کر لکڑہارے کی آنکھوں سے آنسو آنے لگے۔۔۔ وہ معصوم تو جانتا ہی نہیں تھا کہ اُسکا باپ اُسکے ساتھ کیا کر کے آیا تھا۔۔۔


تم بھی بھاگ جاؤ یہاں سے سکندر ۔۔۔ میری بات مانو یہ مت کرو ۔۔۔ مَنو پھر سے سکندر کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ جب کہ وہ جانتا تھا کہ یہاں سے نکل جانے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔


سردار نے پھر سے پھڑپھڑاتے ہوئے مَنو کو گردن سے پکڑا اور ایک ٹوکری میں پھینک کر اُسے اُوپر سے بند کر دیا۔۔۔


سردار کے اشارہ کرنے پر باچھو نے سکندر کو پکڑا اور تختے کے ساتھ باندھ دیا۔۔۔ لکڑہارا سُدھد بُدھ کھڑا بس دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔


سردار میری ایک اور بات مان لو ۔۔۔آپ تو اتنے رحمدل ہو ۔۔۔ اپنے کسی ساتھی سے کہو کہ اِنہیں گاؤں تک چھوڑ آئے ۔۔۔اور اُس بیچارے طوطے کو چھوڑ دو ۔۔۔ وہ بے ضرر سا ہے۔۔۔ اُسے آزاد کر دو وہ خودی جنگل میں چلا جائے گا۔۔۔ سکندر نے لکڑہارے اور مَنو کی سفارِش کرتے ہوئے کہا،،، جو سردار نے مان بھی لی۔۔۔


ارے او بھالے! جا اِس بُڈھے کو گاؤں چھوڑ آ۔۔۔ اورواپس آ کر اُس طوطے کو ٹوکری میں سے نکال دینا۔۔۔ سردار نے ایک جنگلی کو آواز لگاتے ہوئے کہا۔۔۔


بھالا بھاگتا ہوا آیا اور لکڑہارے کو بازو سے پکڑ کر گاؤں کی طرف چلنے لگا۔۔۔۔لکڑہارا بُت بنا اُس کے ساتھ چل پڑا ۔۔۔


بھالا واپس آیا تو سب اُسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔۔۔ اُس نے آتے ہی ٹوکری کا مُنہ کھول دیا۔۔۔ مَنو فوراً ٹوکری سے باہر آ گیا اور سیدھا سکندر کے کندھے پر جا بیٹھا ۔۔۔


تو چلا جا یہاں سے مَنو۔۔۔ تو بھی جانتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ تو مجھے اس حال میں دیکھے گا تو تجھے اور تکلیف ہو گی۔۔۔ چلا جا یہاں سے۔۔۔ میری خاطر چلا جا۔۔۔ سکندر مَنو کو وہاں سے نکال دینا چاہتا تھا ۔۔۔ سکندر کے آنسو دیکھ کر مَنو بھی رونے لگا۔۔۔


منو تو بابا کے پاس چلا جا ۔۔۔ وہ بہت اکیلے ہو جائیں گے ۔۔۔تو انکا خیال رکھنا ۔۔ میری امانت سمجھ کر اُن کا خیال رکھنا ۔۔۔۔ مَنو تو میرا پکا دوست ہے نہ ۔۔۔ میری بات مان لے بابا کے پاس چلا جا ۔۔۔ مگر اُنہیں کبھی مت بتانا میرے ساتھ کیا ہوا ۔۔۔۔ سکندر روتے ہوئے منو کی منت کرنے لگا ۔۔۔۔


مَنو نے اپنے پَر سکندر کی گردن کے گِرد پھیلا لئیے اور اپنا مُنہ اُسکے مُنہ کے ساتھ لگا لیا۔۔۔ جیسے وہ اُسے الوداع کہہ رہا ہو۔۔۔


جب سے مَنو اُسے مِلا تھا وہ دونوں کبھی علیحدہ نہیں ہوئے تھے۔۔۔



بھالے جا اِس کو لے جا اور نہلا کر قربانی کے لئیے تیار کر صبح ہونے میں تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے۔۔ سردار نے بھالے کو حکم دیا۔۔۔


بھالا بھاگتا ہوا گیا اور سکندر کی رسیاں کھولنے لگا۔۔۔


اب چلا جا یہاں سے مَنو ۔۔۔ سکندر نے ڈانٹتے ہوئے مَنو سے کہا ۔۔۔جو ابھی بھی اُسکی گردن سے چپکا ہوا تھا۔۔۔


مَنو نے بے بس نگاہوں سے سکندر کو دیکھا اور روتے ہوئے گاؤں کی طرف اُڑ گیا۔۔۔۔