بختاور اور آفتاب کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔۔وہ دونوں سکندر کو اچانک دیکھ کر بوکھلا گئے تھے۔۔۔۔


اگر تم نے آنا ہی تھا تو ہمیں بتا دیتے ہم خود تمھارے ساتھ آتے۔۔۔۔ آفتاب نے ظاہری خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔


کیوں بھائی جان ! کیا میں اپنے کارخانے میں اکیلا نہیں آ سکتا کیا ۔۔۔یہاں آنے کے لئیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت ہے کیا ؟۔۔۔۔ سکندر نے سوالیا انداز میں بختاور سے پوچھا ۔۔۔


نن نہیں ۔ نہیں ۔۔۔بلکل نہیں ۔۔۔کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں ہے تمھیں ۔۔۔ بختاور سکندر کے سخت لہجے سے گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔


بختاور بھائی ! ۔۔۔ خدا بخش کو کیوں نکالا ہے آپ نے ؟۔۔۔۔سکندر نے ایک اور مشکل سوال بختاور سے کیا


اب تمھیں کیا بتاؤں سکندر ۔۔۔تم ہماری بات پہ یقین نہیں کرو گے ۔۔۔ تمھیں نہیں معلوم وہ کتنا بڑا دھوکے باز انسان تھا ۔۔۔ کب سے تمھیں دھوکا دے رہا تھا ۔۔۔ میں نے خود اُسے کپڑا چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا ۔۔۔ یہ سب اُسی کا کیا دھرا ہے ۔۔۔ اُس نے مزدوروں کو بہکایا اور اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔ جو بچے کچے مزدور ہیں میں اُن سے بہت مشکل سے کام لیتا ہوں ۔۔۔۔ بختاور بیچارا سا مُنہ بنا کر سکندر کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔


خدا بخش میرا بہت پُرانا اور وفادار ملازم تھا ۔۔۔۔ وہ چوری کیسے کر سکتا ہے ؟۔۔۔ سکندر کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔


تمھارے سامنے تو وہ تمھارا وفادار ہی بنا رہا ۔۔۔ تم کچھ دن گھر کیا بیٹھے اُس نے تو اپنے رنگ ڈھنگ دِکھانے شروع کر دئیے۔۔۔ آفتاب بھی بختاور کی زبان بول رہا تھا ۔۔۔۔


سکندر کو جب کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ خاموشی سے وہاں سے اُٹھا اور اپنی بگی میں آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔ بگی میں بیٹھتے ہی اُس نے کوچوان کو حکم دیا کہ خدا بخش کے گھر لے چلے ۔۔۔۔


خدا بخش سکندر کو دیکھ کر پہلے تو بہت حیران ہوا پھر رونے لگا اور سکندر کے قدموں میں گِر گیا ۔۔۔۔


مجھے تم سے یہ اُمید نہیں تھی خدا بخش۔۔۔۔ سکندر نے اُسے حقارت سے اپنے پیروں سے ہٹایا


مالک ! میں تو آپ پہ جان بھی قربان کرنے کو تیار ہوں ۔۔۔ مگر آپ سے غداری نہیں کر سکتا ۔۔۔ آپ نے جو کچھ سُنا وہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔ آپ ایک دفعہ میری بات تو سُنیں ۔۔۔ خدا بخش منت کرنے لگا ۔۔۔


اب سُننے کو کیا رہ گیا ہے خدا بخش ؟۔۔۔ تم نے تو میری پیٹھ پیچھے وار کیا ہے ۔۔۔ بھائیوں نے تو تمھیں چھوڑ دیا ہے ۔۔۔ میں ہوتا تو تمھارا سر اب تک تمھارے دھڑ پر نہ ہوتا ۔۔۔۔سکندر کا غصہ کم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔


مالک یہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔ میں مر سکتا ہوں آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔۔۔۔آپ ایک دفعہ میری بات سُنیں تو سہی۔۔۔۔ خدا بخش ہاتھ جوڑے اُس غلطی کی معافی مانگ رہا تھا جو اُس نے کی ہی نہیں تھی۔۔۔


سکندر! ۔۔۔۔ تم سکندر ہو نہ؟۔۔۔ اِس سے پہلے کہ سکندر خدا بخش کے گھر سے باہر جاتا ۔۔اُس کے قدم ایک جانی پہچانی آواز سے رُک گئے تھے۔۔۔


سکندر کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں ۔۔۔ جب اُس نے مُڑ کر دیکھا تو اُسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ یہ وہی تھا اُس کا بچپن کاساتھی اُسکا اکلوتا دوست مَنو۔۔۔


مَنو خدابخش کی کھڑکی میں کھڑا سکندر کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔منو!۔۔۔ سکندر بھاگتے ہوئے مَنو کی طرف بڑھا ۔۔۔ اُس نے مَنو کو پکڑ کر اپنے چہرے کے سامنے کیا ۔۔۔ وہ کبھی مَنو کو چومتا تو کبھی اُسے اپنے سینے سے لگاتا ۔۔۔۔ سکندر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کرے۔۔۔۔ منو کا بھی کچھ یہی حال تھا ۔۔۔۔


سکندر جب خوشی سے روتے روتے تھک گیا تو مَنو سے پوچھنے لگا ۔۔مَنو میں نے تو تمھیں بابا کے ساتھ رہنے کو کہا تھا نہ اور تم یہاں آ گئے ۔۔۔ سکندر نے خفا ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔


میں تمھارا پکا دوست ہوں سکندر ۔۔۔ وعدہ کیسے نہ پورا کرتا ۔۔۔ جنگل سے سیدھا میں تمھارے بابا کے پاس ہی گیا تھا ۔۔۔۔


ہاں تمھارا بھی کیا قصور ہے اِس میں ۔۔۔یہ تو اللہ کی مرضی تھی نہ۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ اِس بات کا دُکھ رہے گا کہ میں اپنے بابا کی خدمت نہیں کر پایا ۔۔۔ سکندر سر جُھکا کے رونے لگا ۔۔۔ مَنو حیرانگی سے سکندر کو دیکھنے لگا ۔۔۔


تم کیا کہہ رہے ہو میں سمجھ نہیں پا رہا ؟۔۔۔ مَنو کی گول آنکھیں حیرانگی سے اور بھی پھیل گئی تھیں ۔۔۔


اِس سے پہلے کہ سکندر کچھ کہتا ۔پاس کھڑا خدا بخش جو کب سے خاموشی سے اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا بول پڑا ۔۔۔مالک ! ۔۔ آپ اِس طوطے کو جانتے ہیں ؟۔۔۔۔


دور رہو مجھ سے تم۔۔۔۔پاس آتا ہوا خدا بخش سکندر کی کرخت آواز سے ڈر کر دوبارہ پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔۔۔


سکندر یہ بہت بھلا مانس انسان ہے ۔۔۔تم اس کی بات سُن لو ۔۔۔مَنو نے سکندر کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔


تم نہیں جانتے ہو اس نے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔۔۔۔ سکندر دوبارہ سے غصے میں آنے لگا۔۔۔


اس نے جو بھی کیا ہے لیکن ایک بار اسے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع تو دو ۔۔۔ اگر تمھیں اس کے دلائل پر یقین نہ آیا تو تم اسے جو چاہے سزا دینا ۔۔۔۔ مَنو نے کسی بزرگ کی طرح پھر سے سکندر کو سمجھایا ۔۔


بولو ۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ہو ؟۔۔۔ سکندر نے خدا بخش کو اجازت دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔


مالک میں آپ کا وفا دار ملازم ہوں ۔۔۔ آپ کو دھوکا دینے کا سوچوں بھی تو میری جان نکل جائے ۔۔۔ خدا بخش بولنے لگا تو بولتا ہی چلا گیا ۔۔۔۔


مالک آپکی شادی کے بعد جب آپ کے بھائیوں نے کارخانے آنا شروع کیا تب حالات بہت اچھے تھے ۔۔۔ ہمارا کارخانہ دن دُگنی رات چُگنی ترقی کر رہا تھا ۔۔۔۔ شروع شروع میں تو اُنہوں نے بھی بہت دلچسپی سے کام کیا ۔۔۔ مگر کچھ دن گزرنے کے بعد اُنہوں نے مجھ سے کھاتا منگوایا اور اپنے پاس رکھ لیا ۔۔۔ کارخانے کا پیسہ کہاں جاتا ہے اِس کا حساب کتاب بھی وہ لوگ خود رکھنے لگے تھے ۔۔۔۔ مال جب بھی جانے لگتا یہ لوگ بہانے سے مجھے وہاں سے بھجوا دیتے ۔۔۔ مہینے کے آخر میں مزدوروں کو اُنکی مزدوری دینے کے پیسے بھی نہیں جمع ہوئے تھے میرے پاس ۔۔۔۔


میں نے ایک دن آپ کے بڑے بھائی سے کھاتا دیکھنے کی گزارش کی ۔۔۔ میں بس یہ جاننا چاہتا تھا کہ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مزدوری دینے کے پیسے بھی جمع نہ ہو سکیں ۔۔۔لیکن اِن دو ماہ میں ایسا کیا ہوا تھا کہ ہمارے مال کے پیسے ہی نہیں ملتے تھے ۔۔۔۔


آپکے بھائی نے مجھے بُری طرح سے ڈانٹ دیا اور کہا اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔ مزدوروں کو میں خود رقم دے دوں گا ۔۔۔ مالک! غریب مزدور اسی مزدوری کے بل بوتے پر اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا ہے ۔۔۔ اِتنی محنت کے بعد اگر اُسے اپنی اجرت نہیں ملے گی تو وہ تو کہیں اور کا رُخ ہی کریں گے نہ۔۔۔۔


ایک دن مجھے کام کرتے کرتے دیر ہو گئی وقت کا پتہ ہی نہیں چلا مجھے ۔۔۔۔ سب مزدور جا چکے تھے ۔۔۔ میں نے کارخانہ بند کیا ہی تھا کہ مجھے کارخانے کے پچھلے دروازے کے کُھلنے کی آواز آئی ۔۔۔میں چھُپ کر دیکھنے لگا ۔۔۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے بھائی چند آدمیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے اُنہوں نے تیار کیا ہوا مال اپنے گھوڑوں پر لادا اوراُسکی قیمت آپکے بھائیوں کو ادا کر کے روانہ ہو گئے ۔۔۔۔۔ میں واپس جانا چاہتا تھا کہ اچانک میرے ہاتھ سے میرے کھانے کا برتن گِر گیا ۔۔۔ جس میں میں اپنے لئیے دوپہر کا کھانا لاتا تھا ۔۔۔۔ برتن گِرنے کی آواز سے وہ دونوں میری طرف بھاگے ۔۔۔ اِس سے پہلے کہ میں بھاگتا وہ لوگ میرے سر پر پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔ اُنہوں نے مجھے بہت مارا ۔۔۔ اور اگلے ہی دن مجھ پر وہ مال چوری کرنے کا الزام لگا کر مجھے کام سے نکال دیا اور میری جگہ اپنا آدمی رکھ لیا۔۔۔۔ خدا بخش بات کرتے کرتے رو پڑا ۔۔۔۔


اگر تمھارے ساتھ ایسا کچھ بھی ہوا تھا تو تمھیں سب سے پہلے مجھے بتانا چاہئیے تھا ۔۔۔ سکندر نے استفہامیہ انداز میں کہا ۔۔۔


مالک ! اُس واقع کے بعد میں مسلسل پانچ روز آپ کے محل جاتا رہا ۔۔۔مگر آپکی بھا بیوں نے مجھے آ پ سے ملنے نہیں دیا ۔۔۔ روز کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر مجھے بھجوا دیا جاتا ۔۔۔ آ پ نے تو محل سے باہر جانا بھی بند کر دیا تھا ۔۔۔۔ ایک دن آپکے بھائی نے مجھے محل کے باہر کھڑا دیکھ لیا ۔۔۔ اُنہوں نے اپنے آدمی بھجوا کر مجھے خوب پٹوایا ۔۔۔۔ میں بال بچے دار آدمی ہوں مالک اسی لئیے خاموش ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ دوبارہ آپکے محل آنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔۔۔


پہلے میں اس معاملے کی تحقیق کر لوں پھر تم سے بات کروں گا ۔۔۔۔ لیکن اگر تمھاری بات میں رتی برابر بھی جھوٹ ہوا تو میں لحاظ نہیں کروں گا کہ تم بال بچے دار ہو ۔۔۔۔ سکندر کو اُس کی بات جھوٹ نہیں لگ رہی تھی مگر وہ اپنے بھائیوں پر کیسے شک کر سکتا تھا ۔۔۔۔


خیر یہ سب چھوڑو ۔۔ تم بتاؤ تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟۔۔۔ سکندر نے گردن گُھما کر مَنو کی طرف رُخ کر لیا ۔۔۔ اِس سے پہلے کہ مَنو کوئی جواب دیتا خدا بخش بول پڑا۔۔۔۔ اچھا ہوا مالک آپ اِس طوطے کو جانتے ہیں ورنہ کل سے تو اِس نے بول بول کر میری جان کھا لی ہے ۔۔۔۔


کل جب میں گھر واپس آ رہا تھا تو گلی کے موڑ پر یہ اُڑتا ہوا نظر آیا ۔۔۔ وہاں ایک بوڑھا بیہوش پڑا ہوا تھا ۔۔۔ یہ اُس بوڑھے بزرگ کے اُوپر اُڑ رہا تھا ۔۔۔اِس نے مجھے مدد کے لئیے بُلایا ۔۔۔ میں نے جلدی سے اُس بزرگ کو اُٹھایا اور ایک طبیب کے پاس لے گیا ۔۔۔۔ وہ بیچارہ بزرگ بخار میں تپ رہا تھا ۔۔۔ آج اُنکا بخار کچھ کم ہوا ہے ۔۔۔۔میں نہیں جانتا وہ کون ہیں ۔۔۔۔ اس طوطے سے پوچھو تو کہتا ہے کہ یہ امانت ہیں کسی کی ۔۔۔۔کچھ سمجھ نہیں پایا میں ۔۔۔۔


سکندر نے سوالیا نظروں سے مَنو کو دیکھا ۔۔۔۔


مَنو نے اپنی گول گول آنکھوں کو جھپکایا جیسے سکندر کے حیران ہونے پر حیران ہو رہا ہو ۔۔۔


ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟۔۔۔ کون ہو سکتا ہے میرے ساتھ ؟۔۔۔ مَنو نے سوالیا انداز میں پوچھا ۔۔۔


یہی تو جاننا چاہتا ہوں کہ کون ہے تمھارے ساتھ جو تمھیں اتنا عزیز ہو گیا ہے۔۔۔ سکندر نے اس کے سوال پر سوال کیا ۔۔۔


تمھارے بابا ہیں سکندر ! اور کون ہو سکتا ہے میرے ساتھ ؟۔۔۔۔ مَنو نے معصومیت سے جواب دیا ۔۔


کیا؟۔۔۔ سکندر کو مَنو کے معصومانہ جواب سے دھچکا لگا تھا ۔۔۔


یہ کیسا بیہوہ مذاق ہے؟ ۔۔۔ سکندر غصے میں ایسے چلایا کہ مَنو اور خدا بخش ڈر گئے ۔۔۔


اِس میں بیہودہ کیا ہے ؟ اور مذاق کیوں کروں گا میں تمھارے ساتھ ؟۔۔۔ مَنو سکندر کے رویے سے حیران تھا۔۔۔


مَنو اُڑتا ہوا کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ سکندر مَنو کے پیچھے بھاگا اور خدا بخش سکندر کے ۔۔۔


چارپائی پر پڑے ہوئے شخص کو دیکھ کر سکندر کے پاؤں دروازے میں ہی رُک گئے تھے ۔۔۔ اُس کے آنسو لگا تار بہہ رہے تھے ۔۔۔ وہ تو ایک قدم بھی نہیں اُٹھا پا رہا تھا ۔۔۔۔ وہ وہیں دروازے کی دہلیز میں ہی بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔۔ سکندر اب زاروقطار رو رہا تھا ۔۔۔ رونے کی آواز سے لکڑہارے کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔ وہ اپنے سامنے بیٹھے سکندر کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔ وقت کی دھند نے بہت کچھ دھندلا کر دیا تھا ۔۔۔ مگر اُس میں اِتنی طاقت نہیں تھی کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کی پہچان سے روک سکے ۔۔۔


سکندر!۔۔۔ لکڑہارے نے کمزور آواز میں پکارا ۔۔۔


بابا! ۔۔۔ سکندر تقریباً بھاگتا ہوا لکڑہارے کے پاس آ گیا اور اُسکا ہاتھ پکڑ کر چومنے لگا ۔۔۔۔۔ اسکے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔۔۔۔


سکندر میرے بچے ۔۔۔ لکڑہارے نے سکندر کو گلے لگا لیا ۔۔۔ دونوں باپ بیٹا کتنی ہی دیر گلے لگے روتے رہے ۔۔۔۔خدابخش یہ سارا منظر بہت حیرانگی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔


بابا آپ کہاں چلے گئے تھے ؟۔۔۔ بھائیوں نے تو مجھے بتایا تھا کہ آپکا انتقال ہو گیا ہے ۔۔۔ اور یہ خبر سُن کر تو مجھے لگا تھا کہ جیسے میرے جسم سے کسی نے روح کھینچ لی ہو ۔۔۔۔ سکندر جب روتے روتے تھک گیا تو اپنے بھائیوں کی بات اپنے باپ کو سُنانے لگا ۔۔۔


نام مت لو میرے سامنے اُن بد بختوں کا ۔۔۔ مر تو میں اُسی دن گیا تھا جس دن تم نے مجھے جنگل سے گھر واپس بھیجا تھا ۔۔۔۔ اُن کمبختوں کے لئیے بھی اور شاید تمھارے لئیے بھی ۔۔۔ لکڑہارا شرمندگی سے نظریں جھکا گیا ۔۔۔۔


آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں بابا ؟۔۔۔۔ آپ کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر سلامت رہے ۔۔۔ سکندر کو اپنے باپ کی بات سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔۔


مجھے معاف کر دو میرے بچے ۔۔۔ میں جنہیں سہارا سمجھتا تھا اُنہوں نے ہی مجھے بے سہارا کر دیا اور تمھارے ساتھ بھی تو اتنا بُرا کیا میں نے ۔۔۔ تمھیں خود اپنے ہاتھوں سے جنگل میں چھوڑ آیا تھا میں ۔۔۔۔ تم نے پھر بھی میری جان بچائی ۔۔۔ مجھے معاف کر دو سکندر مجھے معاف کر دو ۔۔۔ لکڑہارا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا اور رونے لگا ۔۔۔


آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے بابا ۔۔۔ ہر کام میں اللہ کی کوئی حکمت ہوتی ہے ۔۔۔ اگر آپ مجھے جنگل میں نہ چھوڑتے تو میں آج اس مقام پر نہ ہوتا ۔۔۔ سکندر نے لکڑہارے کے بندھے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لئیے اور اُسے چپ کروانے لگا ۔۔۔


لیکن بابا! بھائی یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ آپکا انتقال ہو گیا ہے؟۔۔۔ سکندر ابھی بھی اپنے بھائیوں کی کہی ہوئی بات نہیں سمجھا تھا ۔۔۔۔


سکندر کی بات سن کر لکڑہارے کو بھی تعجب ہوا وہ کتنی ہی دیر بول ہی نہیں سکا۔۔۔اور پھر دھیرے سے مسکرا دیا۔۔۔۔