زندگی کئی روپ بدلتی ہے ۔۔۔ سکندر کی زندگی نے بھی ایک نیا روپ اوڑھ لیا تھا۔۔۔اُنہیں وہاں رہتے ہوئے ایک مہینہ گُزر گیا تھا ۔۔۔ایک رات جب سب سو گئے لیکن سکندر کو نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور گُفا کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔ اُسے اپنے بابا اور مَنو بہت یاد آ رہے تھے ۔۔۔ اُس نے اپنے پاس پڑے ہوئے چھوٹے سے لکڑی کے ٹکڑے کو اُٹھایا اور زمین پر اپنے بابا اور مَنو کا نام لکھنے لگا۔۔۔ اُس نے نام لکھنے کے لئیے لکڑی کو زمین پر پھیرا تو اُسے کوئی چمکتی ہوئی چیز نظر آنے لگی۔۔۔ اُس نے زمین کو تھوڑا اور کُھرچا تو وہ چیز واضح ہونے لگی۔۔۔ اُس نے غور کیا تو وہاں سونے کی سِلیں پڑی ہوئی تھیں ۔۔۔ وہ جلتی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی اُٹھا لایا ۔۔۔ اُس نے دوبارہ سے دیکھا تو وہ واقعی سونے کی سِل تھی ۔۔۔ سکندر نے اُس پر دوبارہ سے مٹی ڈال دی اور اپنی جگہ پر آ کر سو گیا۔۔۔


صبح ہوتے ہی اُس نے بھالے کو ساری بات سُنا دی۔۔۔ لیکن بھالے نے سُن کر نظر انداز کر دیا۔۔ تجھے وہم ہوا ہو گا۔۔۔ اور فرض کرو تم سچ کہہ بھی رہے ہو تو اِس سونے کا ہم کیا کریں گے ۔۔۔ یہ جنگلی ہمیں یہاں سے جانے نہیں دیں گے اور یہاں رہ کر تو یہ سونا ہمارے لئیے بیکار ہے۔۔۔


ہم یہ سونا لے کر یہاں سے بھاگ جائیں گے اور شہر چلے جائیں گے۔۔۔ پھر ہم آرام دہ زندگی گزاریں گے۔۔۔سکندر نے بھالے کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔


بھالا سکندر کی بات سُن کر بہت ہنسا ۔۔۔ تمھیں لگتا ہے یہ سب اتنا آسان ہے اور ہم یہ سب لے کر آسانی سے بھاگ جائیں گے تو تمھاری بھول ہے ۔۔۔ میں پہلے بھی بھاگنے کی کوشش بہت دفعہ کر چُکا ہوں اور ناکام ہو کر اُس کی سزا بھی بھُگت چُکا ہوں ۔۔۔ اس لئیے بہتر ہو گا کہ تم بھی یہ خیال اپنے دل سے نکال دو ۔۔۔ اور اِسی میں خوش رہو کہ تمھاری سزا منسوخ ہو گئی ہے۔۔۔


اگر ہم کوشش کریں تو یہاں سے بھاگ سکتے ہیں بھالے۔۔۔ میری بات سمجھنے کی کوشش کر ۔۔۔ سکندر نے بھالے کو منانے کی کوشش کی ۔۔۔


یہ ٹھیک کہہ رہا ہے بھالے ہمیں یہاں سے بھاگ جانا چاہئیے ۔۔۔ ہمیں یہاں رہ کر اپنی زندگی خراب نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔ ایسی زندگی سے تو موت ہی بہتر ہے۔۔۔ تارو جو کب سے خاموش بیٹھا تھا سکندر کی بات سے مُتفق تھا ۔۔۔


بھالے کو مجبوراً اُن دونوں کی بات ماننی پڑی۔۔۔


اگلی رات جب سب لوگ سو گئے تو سکندر نے بھالے اور تارو کو وہ جگہ دِکھائی جہاں سونے کی سِلیں پڑی تھیں ۔۔۔ پھر وہ سب مِل کر زمین کھودنے لگے ۔۔۔ زمین میں سے سونے کی دس سِلیں نکلیں ۔۔۔ وہ تینوں بہت خوش تھے۔۔۔


لیکن اِن کو چُھپائیں گے کہاں۔۔۔ صبح جب سب اُٹھیں گے تو وہ دیکھ لیں گے۔۔۔ تارو نے سِلوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔


وہ بھی میں نے سوچ لیا ہے ۔۔۔ سکندر ہاتھ جھاڑتے ہوئے مُسکرانے لگا۔۔۔اُس نے اپنے مشکیزے میں سے تھوڑا سا پانی لیا اور مٹی کو گیلا کر دیا۔۔۔ پھر وہ گیلی مٹی اُس نے سونے کی سِلوں پر لگا دی۔۔۔ اب وہ مٹی کی سِلیں لگ رہیں تھیں۔۔۔ انہوں نے کھودی ہوئی زمین میں مٹی بھر دی اور سِلوں کو گُفا کی دیوار سے ایسے کھڑا کر دیا کہ کسی کو شک نہ ہو۔۔۔۔ صبح ہونے والی تھی ۔۔۔وہ لوگ اپنی اپنی جگہوں پر آ کر سو گئے۔۔۔


صبح جب سب لوگ اُٹھے تو سکندر نے بھالے کو اِشارہ کیا ۔۔۔ سکندر کا اِشارہ دیکھتے ہی بھالا اپنی جگہ سے اُٹھا اور سکندر کو مارنا شروع کر دیا۔۔۔ سکندر نے اُن دونوں کو سب کچھ رات کو ہی سمجھا دیا تھا ۔۔۔


سردار نے دونوں کو لڑتے دیکھا تو اپنے پاس بُلایا۔۔۔


کیوں لڑ رہے ہو تم دونوں؟ ۔۔سردار نے غصے سے پوچھا


سردار کل رات کو ہمارے دیوتا پھر سے اسکے خواب میں آئے تھے۔۔۔ اُنہوں نے ہمیں بَلی دینے کا حکم دیا ہے اور یہ بات یہ آپکو بتانے سے روک رہا ہے۔۔۔ رات ہی اِس نے مجھے اپنا خواب سُنایا تھا۔۔۔بھالے نے کمال کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔


کیا خواب دیکھا ہے اِس نے؟ ۔۔۔سردار نے سکندر کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔


سردار اِس نے دیکھا کہ ہمارے دیوتا نے حکم دیا ہے کہ دس دِن کے اندر ہی ہمیں بَلی دینی ہو گی۔۔۔اور اِس نے دیکھا کہ ،،،، ابھی بھالا کچھ بولنے ہی والا تھا کہ سکندر نے اُس کے مُنہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ جیسے اُسے زبردستی روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔ بھالے نے سکندر سے اپنا مُنہ چھُڑوایا اور سردار کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اِس سے پہلے کہ سکندر دوبارہ اُس پر ہاتھ ڈالتا باچھو نے سکندر کو گردن سے دبوچ لیا ۔۔۔


تو بول بھالے کیا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔باچھو نے بھالے کو کہا۔۔۔


بھالا پھر سے سردار کے سامنے آ کر اپنی بات سُنانے لگا۔۔۔ سردار دیوتا نے حکم دیا ہے کہ دس دن کے اندر بَلی دے دی جائے ۔۔۔۔


لیکن بھالے اِس طوفانی برف باری میں ہم شکار کہاں سے ڈھونڈیں گے؟۔۔۔ سردار نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔۔۔


سردار ہمارا دیوتا بہت رحم دل ہے ۔۔۔ آپ نے یہاں آ کر دیوتا کی بات مان لی ہے تو وہ آپ سے بہت خوش ہے۔۔۔ اُس نے کہا ہے کہ ہم اس کی بَلی چڑھا سکتے ہیں ۔۔۔۔ بھالے نے سکندر کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔یہی بات یہ مجھے آپکو بتانے سے منع کر رہا تھا۔۔۔


یہ جھوٹ بول رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا ۔۔۔ سکندر چلانے لگا


تو اپنی بکواس بند رکھ تو تیرے لئیے بہتر ہو گا۔۔۔ باچھو نے سکندر کو ایک تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔


یہ تو بہت خوشی کی بات ہے بھالے۔۔۔ جِس دن سے وہ واقع ہوا ہے میرا دل بہت پشیمان ہے۔۔۔ اگر ہمیں اِسکی بَلی دینے کی اِجازت ہے تو پھر دیر کِس بات کی ہے ۔۔۔ آج رات ہی جشن کا اِنتظام کرو باچھو ۔۔۔ ہم آج رات ہی بَلی چڑھائیں گے۔۔۔ سردار نے خوش ہوتے ہوئے باچھو کو حکم سادر کر دیا۔۔۔


لیکن ایک مسئلہ ہے سردار ۔۔۔ بھالے نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔


کیسا مسئلہ؟۔۔۔ سردار نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔


سردار دیوتا نے کہا ہے کہ قربانی کی رسم قبیلے جا کر اپنی جگہ پر ہی ہونی چاہیے،،جہاں دیوتا کی مورتی بنی ہوئی ہے ۔۔۔بلکل قبیلے کے بیچوں بیچ۔۔۔،


سردار کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمودار ہونے لگے تھے۔۔۔ اسکے لئیے جان لیوا سردی میں پورے قبیلے کو لے کر جانا بہت مشکل تھا۔۔۔


سردار پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ دیوتا نے کہا ہے کہ چند لوگ جا کر بھی قربانی کی رسم پوری کر سکتے ہیں ۔۔۔ سارے قبیلے کو جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ پھر مقررہ وقت پر سردار سمیت سب لوگ قبیلے واپس آ سکتے ہیں۔۔بھالا سردار کی پریشانی بھانپ گیا تھا ۔۔۔


۔ اور اُنہوں نے تاکید سے کہا ہے کہ ۔۔۔ قربانی کے بعد اِسکی لاش کو چکنی مٹی میں دفنا دینا ہے۔۔۔بھالا روانی سے سب کچھ بتا رہا تھا ۔۔۔


آج کل تو ہر طرف برف ہی پھیلی ہوئی ہے ۔۔۔ چکنی مٹی کہاں سے مِلے گی؟ ۔۔ سردار کو ایک اور پریشانی نے آ گھیرا تھا۔۔۔


یہ تو آ پ ٹھیک کہہ رہے ہیں سردار ۔۔۔ بھالے نے سر جھکا کر سردار کی ہاں میں ہاں مِلائی۔۔۔


سردار اِس گُفا کی مٹی بہت چکنی ہے ۔۔۔ اگر آ پ اجازت دیں تو ہم یہا ں سے مٹی گھوڑوں پر لاد کر لے جا سکتے ہیں۔۔۔پھر تو قربانی کی رسم پوری کرنے میں کوئی روکاوٹ نہیں رہے گی۔۔۔ تارو نے بھی آگے بڑھ کر اپنا مشورہ دیا۔۔۔


دونوں بھائیوں نے سکندر کی سکھائی ہوئی ساری باتیں مَن و عن سردار کے سامنے پیش کر دیں تھیں۔۔


ہاں کہہ تو ٹھیک رہے ہو گُفا کی مٹی بہت چکنی ہے ۔۔۔ تو پھر ٹھیک ہے آج شام کو ہی یہ کر لیں گے ۔۔۔ باچھو چند لوگ اپنے ساتھ لے لواور یہ مُبارک رسم پوری کر نے چلتے ہیں۔۔۔سردار نے باچھو کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔


باچھو نے اپنے چند لڑکوں کو مٹی کھودنے کے لئیے لگا دیا اُن میں بھالا اور تارو بھی شامل تھے ۔۔۔ اُنہوں نے نظر بچا کر سونے کی سِلیں بھی مٹی کی بوریوں میں چھپا دیں۔۔۔چند جنگلی سکندر کو قربانی کے لئیے تیار کرنے لگے۔۔۔ شام ہوتے ہی سردار ، باچھو اور بھالا سکندر کو لے کر قبیلے کی طرف چل پڑے۔۔۔ سردار نے تارو کو ساتھ آنے کی اجازت نہیں دی۔۔۔۔ یہ حکم سُن کر وہ تینوں بہت پریشان ہو گئے تھے۔۔۔۔ لیکن سکندر نے اُسے ایک اور ترکیب بتائی تھی۔۔۔ بھالے نے تارو کو ایک بوری میں بند کر کے مَٹی والی بوریوں کے ساتھ رکھ دیا تھا۔۔۔


راستے میں بھالے نے نظر بچا کر تارو والی بوری کی رسی ڈھیلی کر دی ۔۔۔ اور سکندر کے ہاتھ پر بندھی ہوئی رسی بھی ڈھیلی کرتے ہوئے اسکے ہاتھ میں ایک چاقو تھما دیا۔۔۔ جو کہ سکندر نے اپنے کپڑوں میں چھُپا لیا۔۔۔۔سکندر کے بازو کو پیچھے کر کے اُسکی کمر کے ساتھ باندھ دیا تھا۔۔۔


قبیلے پہنچتے ہی اُنہوں نے سکندر کو لکڑی کے تختے پر لیٹا دیا ۔۔۔اور اپنی عبادت میں مشغول ہو گئے ۔۔۔ پھر سردار نے اپنی تلوار نکالی اور سکندر کے اوپر تان لی۔۔۔ اس سے پہلے کہ سردار سکندر کا سر تن سے جُدا کر دیتا ۔۔سکندر نے اپنے ہاتھ کو رسی سے آزاد کیا اور کپڑوں میں چھُپایا ہوا چاقو نکال کر سیدھا سردار کے پیٹ میں گھُسا دیا ۔۔۔ سردار اس حملے کے لئیے تیار نہیں تھا ۔۔۔ وہ زمین پر جا گِرا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ باچھو کوئی ردِعمل ظاہر کرتا ۔۔۔ بھالا جو پہلے سے تیار کھڑا تھا اُس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈنڈا باچھو کے سر میں دے مارا ۔۔۔


باچھو کافی مظبوط جنگلی تھا ۔۔۔ سر سے خون نکلنے کے باوجود اُس نے بھالے کی گردن دبوچ لی۔۔۔ سکندر بھالے کی مدد کے لئیے بھاگا ہی تھا کہ زمین پر گِرے ہوئے سردار نے اُسے ٹانگ سے کھینچ کر زمین پر گِرا دیا۔۔۔ چاقو سکندر کے ہاتھ سے دور جا گِرا ۔۔۔ سردار نے سکندر کو پکڑ کر مارنا شروع کر دیا۔۔۔ بھالا بھی باچھو کا مقابلہ نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔ شور کی آواز سُن کر تارو بھی بوری سے باہر آ گیا۔۔۔ وہ بازی پلٹتے دیکھ کر گھبرا گیا۔۔۔ پھر اُسکی نطر چاقو پر پڑی ۔۔۔ اُس نے آگے بڑھ کے چاقو سکندر کی طرف اُچھالا ۔۔۔ سکندر نے جھپٹ کر چاقو پکڑ لیا اور ایک اور وار سردار کے پیٹ میں کیا ۔۔۔ سردار پھر سے زمین پر جا گِرا ۔۔۔ سکندر نے وقت ضائع کیے بغیر چاقو سے ایک بھرپور وار سردار کے سینے پر کیا ۔۔۔ سردار نے وہیں دم توڑ دیا ۔۔۔ تارو بھالے کی مدد کے لئیے آگے بڑھا ۔۔۔ تو باچھو نے جھپٹ کر تارو کو دبوچ لیا اور چاقو اسکی گردن پر رکھ دیا۔۔۔


نہیں باچھو ۔۔ نہیں ۔۔۔ اُسکو چھوڑ دے ۔۔۔ اِس سب میں اُسکا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔ وہ تو بچہ ہے اُسے جانے دے ۔۔۔ بھالا تارو کو باچھو کے شکنجے میں دیکھ کر تڑپ اُٹھا تھا ۔۔۔۔


غدار ۔۔۔ کتنا بھروسہ کیا میں نے تجھ پر ۔۔۔ باچھو نے غصے سے بھالے کو دیکھا ۔۔۔


اِس میں اِن دونوں کا کوئی قصور نہیں باچھو ۔۔۔ یہ سب اِنہوں نے میرے کہنے پر کیا تھا ۔۔۔ سکندر بھی تارو کو اِس حال میں دیکھ کر ڈر گیا تھا ۔۔۔


میں تم تینوں کو مار کر یہیں گاڑھ دوں گا۔۔۔ اِس سے پہلے کہ باچھو تارو کی گردن پر چاقو چلاتا بھالے نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈنڈا اُسکی ٹانگوں میں مارا ۔۔۔ باچھو اور تارو مُنہ کے بل زمین پر آ گِرے۔۔۔ بھالے نے جلدی سے آگے بڑھ کر تارو کو وہاں سے ہٹایا ۔۔۔ پھر سکندر نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چاقو باچھو کی کمر میں دے مارا۔۔۔ اُن تینوں نے مِل کر باچھو کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے اور اُسے وہیں تڑپتا چھوڑ کر اُنہوں نے سونے کی سِلوں والی بوریاں گھوڑوں پر رکھیں اور شہر کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔۔ دو دن جنگل میں بھٹکنے کے بعد آخر کار اُنہیں راستہ مِل ہی گیا۔۔۔


شہر پہنچ کر سکندر نے سب سے پہلے سُنار کی دوکان کا پتہ لگایا ۔۔۔ وہ لوگ سیدھا سُنار کے پاس گئے ۔۔۔ سکندر نے سُنار کو ایک سونے کی سِل دی اور اُسے کہا کہ اِسے پگلا کر اشرفیاں بنا دے۔۔۔ سکندر نے کہا کہ اگر وہ کِسی کو بتائے بغیر وہ اشرفیاں بنا دے تو وہ اِس میں سے سو اشرفیاں اُسے دے دے گا۔۔۔۔


سُنار خوشی خوشی اِس سودے پر مان گیا۔۔۔


آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ ۔۔۔ سُنار انکے حلیے دیکھ کر بہت حیران تھا


ہم ساتھ والے شہر سے آئے ہیں ۔۔۔بس کچھ دن جنگل میں راستہ بھول گئے تھے ۔۔۔ اس لئیے ہمارے یہ حالات ہو گئے ہیں ۔۔۔ اگر ہمیں ایک دو دن کہیں رہنے کی جگہ مل جائے تو ہم آپ کے بہت شکر گزار ہوں گے ۔۔۔۔ سکندر نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی۔۔۔


جی ضرور ۔۔۔ میرے گھر کے اوپر والا کمرہ خالی ہے ۔۔۔ آپ وہاں رہ سکتے ہیں ۔۔۔ سُنار نے اُنہیں اپنے گھر رہنے کی پیشکش کی۔۔۔


دو دِن وہ لوگ سُنار کے گھر رہے۔۔۔ دو دن بعد اشرفیاں لے کر وہ لوگ دوسرے شہر چلے گئے ۔۔۔ وہاں اُنہوں نے اپنے لئیے کھانا اور کپڑے خریدے۔۔۔۔


سکندر نے بھالے اور تارو کے حصے کی سِلیں اُنکے حوالے کر دیں ۔۔۔ وہ دونوں اپنے گاؤں جانا چاہتے تھے۔۔۔ سکندر نے روکنا مناسب نہ سمجھا اور اُنہیں اُنکے گاؤں روانہ کر دیا۔۔۔


سکندر نے اپنے لئیے ایک خوبصورت محل تعمیر کروایا اور وہاں آرام و آسائش کی زندگی بسر کرنے لگا۔۔۔ ایک دِن سکندر بازار سے گُزر رہا تھا کہ اُسے لگا کہ ایک دُوکان پر اُسکے بابا کھڑے ہیں ۔۔۔ سکندر بھاگ کر اُن کے پاس چلا گیا۔۔۔ جب اُس نے دیکھا کہ وہ تو کوئی اور آدمی ہے ۔۔۔جو بس دور سے اُسکے بابا جیسا لگ رہا تھا ،،تو سکندر بہت اُداس ہو گیا۔۔۔


اگلے ہی دِن سکندر اپنے گاؤں کے لئیے نکل پڑا ۔۔۔ وہ اپنے گھر پہنچا تو گھر کا دروازہ کسی اجنبی نے کھولا ۔۔۔ سکندر نے اُس آدمی سے اپنے بابا کے بارے میں پوچھا تو اُس نے بتایا کہ عرصہ ہوا وہ لوگ یہ گھر بیچ کر جا چکے ہیں ۔۔۔ اُس نے سارے گاؤں والوں سے اُنکے بارے میں پوچھا ۔۔۔مگر کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا ۔۔۔ سکندر مایوس ہو کر واپس لوٹ آیا۔۔۔


سکندر نے قالین بنانے کا کاروبار شروع کر لیا ۔۔۔ اِسی طرح دِن گزرتے گئے ۔۔۔ سکندر کے کاروبار میں دِن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔۔۔ اُس کے قالین اِتنے مشہور ہونے لگے کہ اُنکا چرچہ بادشاہ کے محل تک جا پہنچا ۔۔۔


بادشاہ نے اپنی بڑی شہزادی کی شادی پر ملک بھر کے قالین سازوں کو مدعو کیا ۔۔۔لیکن سکندر کے قالین بادشاہ کو سب سے ذیادہ پسند آئے ۔۔۔ سکندر ملک کا مشہور تاجر بن گیا۔۔۔ اُسکا محل بادشاہ کے محل سے بھی ذیادہ شاندار اور آرام دہ تھا۔۔۔ بادشاہ بھی اُس سے بہت مُتاثر تھا۔۔۔ بادشاہ نے اُس کی معزوری کی بھی پرواہ نہ کی اور اُسے اپنی چھوٹی شہزادی سے شادی کی پیشکش کر دی ۔۔۔جسے سکندر نے خوشی خوشی قبول کر لیا۔۔۔۔


سکندر کی شادی والے دن پورے ملک میں جشن کا سماں تھا ۔۔۔ محل کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔۔۔۔ سکندر دُلہا بنا بادشاہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔ اچانک دربار میں شور وغل ہونے لگا ۔۔۔ پہرے دار دو آدمیوں کو مارتے ہوئے بادشاہ کے سامنے پیش کر رہے تھے۔۔۔


بادشاہ یہ دیکھ کر بہت برہم ہوا اور پہرے داروں کو ڈانٹنے لگا۔۔۔ کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ آج میری بیٹی کی شادی ہے اور تم لوگ کیا تماشا کر رہے ہو؟


آپ کی خوشی میں مُخل ہونے کی معذرت چاہتے ہیں عالی جاہ! ۔۔۔ مگر ان دونوں نے جو کیا وہ معافی کے قابل نہیں ۔۔۔ ایک پہرے دار نے مودبانہ انداز میں بادشاہ سے کہا۔۔۔


ایسا کیا کر دیا ہے انہوں نے جو انکو ابھی پیش کرنا ضروری تھا؟۔۔۔ بادشاہ نے سوال کیا۔۔۔


سکندر اُن دونوں کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا ۔۔۔مگر ان دونوں کو اس حالت میں دیکھ کر وہ ساکن سا ہو گیا تھا ۔۔۔


اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس طرح انہیں بادشاہ سے چھڑوائے۔۔۔ بادشاہ سے چھڑوا بھی لے تو کس حیثیت سے انہیں بادشاہ سے ملوائے گا۔۔۔۔



اُن دونوں نے بادشاہ کی بغل میں بیٹھے سکندر کو پہچانا ہی نہیں تھا ۔۔۔ وہ تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انکا وہ لاغر ، معذور بھائی بادشاہ کا داماد بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔


بادشاہ سلامت ! یہ دونوں شہزادی مہ جبین کو اغوا کرنے کی نیت سے آئے تھے تا کہ آپ سے بھاری بھرکم تاوان وصول کر سکیں ۔۔۔ مگر یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔ پہرے دار نے سر جھکاتے ہوئے ساری بات بادشاہ کو سنا دی


تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر بُری نظر ڈالنے کی۔۔۔ لے جاؤ ان کمبختوں کو اور زندان میں ڈال دو۔۔۔ کل اِن کے سر قلم کر کے چوک میں لٹکا دینا تا کہ سب کے لئیے عبرت کا نشان بن جائیں اور دوبارہ کوئی میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش بھی نہ کرے ۔۔۔ بادشاہ نے خونخوار نظروں سے بختاور اور آفتاب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔


گستاخی معاف بادشاہ سلامت ! آپ کے فیصلے میں مُخل ہو رہا ہوں۔۔۔ آج تو خوشی کا دن ہے ۔۔ آپ ان دونوں کو معاف کر دیجئیے ۔۔آج کے دن کی اہمیت اتنی ذیادہ ہے میرے دل میں کہ آج کے دن میں کسی کو دکھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔ سکندر اپنے بھائیوں کو سزا نہیں دلوانا چاہتا تھا ۔۔۔


نہیں ،،انکی غلطی معافی کے لائق نہیں ہے ۔۔۔بادشاہ نے برہم ہوتے ہوئے کہا۔۔۔اور اپنے سپاہیوں کو اشارہ کیا کہ انہیں یہاں سے لے جائیں ۔۔۔


سکندر کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔۔ وہ کسی بھی حالت میں اپنے بھائیوں کو بچانا چاہتا تھا ۔۔ کیونکہ اسے سو فیصد یقین تھا کہ اسکے بھائی بے قصور ہیں ۔۔۔مگر بادشاہ کسی طور ماننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔


سکندر کی لاکھ دلیلیں بھی بادشاہ کو راضی نہیں کر پا رہی تھیں ۔۔۔


سپاہی آگے بڑھے اور رسیوں میں جکڑے ہوئے آفتاب اور بختاور کو گھسیٹتے ہوئے زندان لے جانے لگے ۔۔۔۔


رُکو!۔۔۔ سکندر نے بلند آواز میں سپاہیوں کو رُکنے کے لئیے کہا


گستاخی معاف بادشاہ سلامت !۔۔آپ ایک انصاف پسند حکمران ہیں اور آج کے اس خاص موقع پر اگر کسی بے گناہ کو سزا مل جائے تو آپ کے لئیے بھی قابلِ قبول نہیں ہو گا اور مجھے بھی دکھ ہو گا۔۔۔


بادشاہ کچھ لمحوں کے لئیے سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔اور سکندر اسی لمحے کی تلاش میں تھا ۔۔۔۔